اسلام آباد : پاک افغان سرحد پر افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کے بعد پاکستان کی مسلح افواج نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے 200 سے زائد طالبان اور دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ کئی دیگر کو زخمی کر دیا۔ اس کارروائی کے دوران پاکستان کے 23 بہادر جوان جام شہادت نوش کر گئے، جبکہ 20 فوجی زخمی ہوئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج نے رات کے وقت پاک افغان سرحد کے ساتھ پاکستان پر بلا اشتعال حملہ کیا۔ اس فائرنگ اور چھاپوں کا مقصد سرحدی علاقوں کو غیر مستحکم کرنا اور دہشت گردی کی سہولت کاری کے لیے صورتحال کو خراب کرنا تھا۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق پاکستانی افواج نے سرحد پر حملے کو فوری طور پر پسپا کیا اور جوابی کارروائی میں طالبان کے متعدد کیمپوں، چوکیوں اور تربیتی مراکز پر چھاپے مارے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، ان کارروائیوں میں دشمن کی 21 چوکیوں پر قبضہ کیا گیا اور طالبان کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیئے گئے۔
جوابی کارروائی کے دوران پاکستانی فوج نے دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں، ہیڈکوارٹرز اور دیگر دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچوں کو بھی تباہ کر دیا۔ پاک فوج نے اپنے تمام اقدامات میں شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور کولیٹرل نقصان سے بچنے کی کوشش کی۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی حکمت عملی پر مکمل عمل درآمد کر رہی ہیں اور اپنے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف اپنے دفاع کا حق استعمال کرتا رہے گا اور افغانستان میں طالبان کی حکومت کو دہشت گرد تنظیموں کی حمایت پر اپنے اقدامات کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان نے طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ فتنۃ الخوارج، داعش اور دہشت گردوں کے خلاف فوری اور قابل تصدیق اقدامات کرے تاکہ افغانستان سے دہشت گردی کی لعنت کا مکمل خاتمہ ہو سکے۔ پاکستانی فوج کا موقف ہے کہ طالبان حکومت اگر دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی جاری رکھتی ہے تو پاکستان افغانستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیے بغیر سکون سے نہیں بیٹھے گا۔