پیرس : فرانس کی ایک پارلیمانی کمیٹی نے بچوں اور نوجوانوں پر سوشل میڈیا کے نفسیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے بعد تجویز دی ہے کہ 15 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے سے مکمل روکا جائے۔
کمیٹی نے 15 سے 18 سال کے نوجوانوں کے لیے رات 10 بجے سے صبح 8 بجے تک سوشل میڈیا استعمال پر پابندی (ڈیجیٹل کرفیو) کا بھی مشورہ دیا ہے۔
یہ کمیٹی مارچ 2025 میں قائم ہوئی تھی، جب سات خاندانوں نے ٹک ٹاک کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا کہ ان کے بچوں کو ایسا مواد دکھایا گیا جو خودکشی جیسے خطرناک رویے کی طرف لے گیا۔
ٹک ٹاک نے کہا ہے کہ بچوں کی حفاظت اس کی اولین ترجیح ہے اور نامناسب مواد کو جلد ہٹایا جاتا ہے۔
کمیٹی نے کہا ہے کہ اگر تین سال میں سوشل میڈیا کمپنیاں یورپی قوانین کی پابندی نہ کریں تو 18 سال سے کم عمر افراد پر مکمل پابندی لگائی جائے گی۔ ساتھ ہی والدین کے لیے قانونی ذمہ داری اور عمر کی تصدیق کے نظام کو بھی لازمی بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔
فرانس سمیت کئی یورپی ممالک بچوں کے آن لائن استعمال کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت اقدامات چاہتے ہیں، مگر کچھ لوگ اس بات پر بھی بحث کر رہے ہیں کہ کیا یہ پابندیاں بچوں کی حفاظت کریں گی یا ان کی آزادی محدود کریں گی۔