فیصل آباد: یو بی جی کے پیٹرن انچیف ایس ایم تنویر نے فیصل آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح ملکی معیشت کو بہتر بنانا ہے اور ہم اپنی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں، اسے ہر ممکن سپورٹ دیں گے۔
ایس ایم تنویر کا کہنا تھا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم شہباز شریف کا ہدف معیشت کی بحالی ہے، اور اسی مقصد کے لیے وہ آج فیصل آباد آئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے اسپتالوں اور سکولوں کو بھرپور سہارا دیا جا رہا ہے۔"فیصل آباد ڈویژن میں 5,651 اسکولز اور ایک اسپتال 7 لاکھ 72 ہزار لوگوں کو علاج کی سہولت دے رہا ہے۔ ایس ایم تنویر نے ملک میں تعلیم کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہمارے اسکولز عالمی معیار پر پورا اترتے ہیں؟ اور کیا ہمارے بچے دنیا کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو رہے ہیں؟
انہوں نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت AI کی جانب بڑھ رہی ہے، ایسے میں ہماری فیڈریشن نے ایک جامع وژن تیار کیا ہے۔
ایس ایم تنویر کے مطابق ملک کو اس وقت سالانہ 40 ملین ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا ہے، جب کہ بیروزگاری کی سرکاری شرح 22 فیصد ہے، تاہم ان کے ذاتی اندازے کے مطابق یہ شرح 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
"ہم نے پاکستان کے مانچسٹر کو جنگ کی آگ میں جھونک دیا ہے۔انہوں نے بجلی کی قیمتوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ حکومت کی طرف سے تاحال بجلی کی قیمت ہماری مانگ کے مطابق 9 سینٹ نہیں کی گئی، جبکہ صدر نے بھی مانیٹری پالیسی میں سود کی شرح 9 فیصد تک لانے کی تجویز دی تھی، جو ان کے مطابق 6 فیصد ہونی چاہیے تھی۔
ایس ایم تنویر نے انکشاف کیا کہ حکومت نے 80 ٹریلین روپے مقامی سطح پر کمائے ہیں، جس پر 11 فیصد سود دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے وزیراعظم کی ہدایت پر ہارون اختر خان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ صنعتی پالیسی کی تیاری میں مصروف ہیں اور ان کی کاوشیں ملک کی معیشت کے لیے نفع بخش ثابت ہوں گی۔
آخر میں ایس ایم تنویر کا کہنا تھا کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا بجلی کی قیمتیں کم ہوں گی، تو واضح طور پر کہا گیا کہ ہم آئی ایم ایف پروگرام میں ہیں، اور جب تک قرض مکمل واپس نہیں ہوتا، قیمتوں میں کمی ممکن نہیں۔