Get Alerts

سندھ کے شہری علاقوں کا نیا صوبہ بن کر رہے گا، اسے مزید نہیں روکا جا سکتا: خالد مقبول

سندھ کے شہری علاقوں کا نیا صوبہ بن کر رہے گا، اسے مزید نہیں روکا جا سکتا: خالد مقبول

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کا مطالبہ ایم کیو ایم کی تشکیل بلکہ اے پی ایم ایس او کے قیام سے بھی پہلے کا ہے، سندھ کے شہری علاقوں کا نیا صوبہ بن کر رہے گا اور اسے مزید روکا نہیں جا سکتا۔

کراچی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ نئے صوبوں کی بات کرنا کوئی گناہ نہیں، پورے ملک میں آبادی کے لحاظ سے نئے صوبے بننے چاہئیں۔ آبادی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، اس لیے صوبوں کی تعداد بھی بڑھنی چاہیے تھی۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں کی تقسیم ہونی ہے اور یہ عمل اب تک ہو جانا چاہیے تھا۔ آج صوبوں کے حوالے سے پورے پاکستان سے آوازیں اٹھ رہی ہیں اور تمام سیاسی جماعتیں بھی ہماری آواز سے آواز ملا رہی ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ہماری دھرتی ماں صرف اور صرف پاکستان ہے، جبکہ تمام صوبے پاکستان کے انتظامی حصے ہیں۔ صوبے صرف انتظامی یونٹس ہوتے ہیں، اس سے زیادہ ان کی کوئی حیثیت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبے لسانی بنیادوں پر قائم ہیں، جبکہ ایم کیو ایم کی خواہش اور مطالبہ ہے کہ صوبوں کی تشکیل انتظامی بنیادوں پر کی جائے۔

خالد مقبول صدیقی نے دعویٰ کیا کہ سندھ کا 79 فیصد بجٹ کراچی دیتا ہے، جبکہ آج کراچی کی آبادی دو کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پہلے شفاف مردم شماری کرائی جائے اور اس کے بعد ایمانداری سے ووٹر لسٹیں تیار کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ہوتے ہوئے سندھ اسمبلی میں نئے صوبے کے قیام کی قرارداد نہیں لائی جا سکتی، تاہم اگر سندھ میں شفاف مردم شماری کرا دی جائے تو خود پیپلز پارٹی نئے صوبوں کا مطالبہ کر رہی ہوگی۔

خالد مقبول صدیقی نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ کے شہری علاقوں کے لیے نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ جاری رہے گا

ٹیگز: