کراچی : عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی 'فچ' نے پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ملکی آؤٹ لک کو 'مستحکم' قرار دے دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کا مالیاتی نظم و ضبط اور مجموعی معاشی کارکردگی تسلی بخش رہی ہے۔ فچ نے واضح کیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری تعاون نے ملکی معیشت کو سہارا دیا ہے اور بورڈ کی حتمی منظوری کے بعد پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط ملنے کی توقع ہے۔
آئندہ مالی سال میں جی ڈی پی (GDP) کی شرح 3.1 فیصد تک رہنے کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔ مالی سال کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 7.9 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 1.1 فیصد تک محدود رہے گا۔ پالیسی ریٹ میں کمی کی بدولت سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں کے اعتماد میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان کو آئندہ عرصے میں 12.8 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کا سامنا ہوگا، تاہم توقع ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر ان ادائیگیوں کے باوجود مستحکم رہیں گے۔