ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نئی تاریخ رقم ہو گئی ہے۔ تقریباً دو دہائیوں کی جلاوطنی اور طویل قانونی و سیاسی جدوجہد کے بعد، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمان ملک کے نئے وزیرِاعظم بننے کے لیے تیار ہیں۔ جمعے کو ہونے والے عام انتخابات میں بی این پی نے بھاری اکثریت حاصل کر کے شیخ حسینہ واجد کے 15 سالہ دورِ اقتدار کے بعد ملک میں ایک بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھ دی ہے۔
بی این پی اور اتحادی، 299 میں سے 212 نشستیں حاصل کر کے واضح برتری حاصل کر لی۔ جماعت اسلامی نے اپوزیشن کے طور پر ابھرتے ہوئے 70 نشستیں حاصل کیں۔ نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) جو نوجوانوں کی جماعت ہے اس نئی جماعت کو، جس نے حسینہ حکومت کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، صرف 5 نشستیں مل سکیں۔
رپورٹس کے مطابق، آئینی طور پر گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب منعقد ہوگی، جس میں طارق رحمان وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھائیں گے۔60 سالہ طارق رحمان، بنگلہ دیش کے سابق صدر ضیا الرحمان اور سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا کے فرزند ہیں۔ ان کا سیاسی سفر آزمائشوں سے بھرپور رہا ہے۔
2007 میں فوجی حمایت یافتہ حکومت کے دوران انہیں کرپشن کے الزامات پر گرفتار کیا گیا، جہاں ان پر مبینہ تشدد بھی ہوا۔ 2008 میں وہ علاج کی غرض سے لندن منتقل ہوئے اور وہاں سیاسی پناہ لی۔ 2018 میں والدہ خالدہ ضیا کی سزا کے بعد انہوں نے لندن سے ہی 'قائم مقام چیئرمین' کے طور پر پارٹی کو متحد رکھا۔ 25 دسمبر 2025 کو وہ 17 سال بعد ڈھاکہ پہنچے، جہاں لاکھوں کارکنوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد طارق رحمان کو پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا بستر ملے گا۔ انہیں فوری طور پر درج ذیل مسائل حل کرنے ہوں گے۔ ملک کئی ماہ کی بدامنی کے باعث معاشی ابتری کا شکار ہے، جس کے لیے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا لازمی ہے۔
بنگلہ دیش کی معیشت کا دارومدار 'گارمنٹس سیکٹر' پر ہے، جسے دوبارہ عالمی سطح پر مستحکم کرنا ایک بڑا ٹاسک ہوگا۔ طویل عرصے تک اپوزیشن کو دیوار سے لگائے رکھنے کے بعد اب تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنا اور جمہوری اداروں کی بحالی ان کا اصل امتحان ہوگا۔
طارق رحمان نے اپنی حالیہ مہم میں 'معتدل جمہوریت' اور 'ترقی پسند بنگلہ دیش' کا وژن پیش کیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے نزدیک طارق رحمان پہلے سے کہیں زیادہ پختہ نظر آتے ہیں، لیکن اب یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ انتقامی سیاست کے بجائے ملک کو کس طرح ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔