ڈھاکہ : بنگلہ دیش کے عام انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کرنے کے بعد، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کارکنوں اور حامیوں کو فتح کی ریلیاں نکالنے سے روک دیا ہے۔ پارٹی قیادت نے آج کے دن کو 'یومِ دعا' کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے، جو ملک میں امن اور استحکام کی خواہش کا مظہر ہے۔
بی این پی نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارم (ایکس) پر جاری ایک پیغام میں اپنے تمام رہنماؤں اور کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی عوامی تقریبات یا فتح کے جشن سے مکمل گریز کریں۔ پارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہم قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ آج (13 فروری) کا دن دعا کے طور پر گزارا جائے تاکہ بنگلہ دیش کے مستقبل کے لیے امن، سیاسی استحکام اور رب کی رہنمائی حاصل ہو سکے۔
تجزیہ کار اس اقدام کو طارق رحمان کی جانب سے ایک مثبت سیاسی پیغام قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد ملک میں ممکنہ کشیدگی کو روکنا اور ایک ذمہ دار حکمران جماعت کے طور پر ابھرنا ہے۔حالیہ پارلیمانی انتخابات میں بی این پی نے میدان مار لیا ہے. بی این پی اور اتحادی: 299 میں سے 212 نشستیں جیت کر دو تہائی اکثریت حاصل کی۔ جماعت اسلامی: 70 نشستوں کے ساتھ پارلیمنٹ میں مضبوط اپوزیشن بن کر ابھری۔
نیشنل سٹیزن پارٹی،تحریکِ انصاف کے علمبردار نوجوانوں کی اس جماعت کو صرف 5 نشستیں ملیں۔60 سالہ طارق رحمان، جو سابق صدر ضیا الرحمان اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے ہیں، 17 سال بعد لندن سے وطن واپس آئے ہیں۔ 2007 کے کرپشن مقدمات اور جلاوطنی کے کٹھن دور کے بعد، اب وہ ملک کے وزیراعظم بننے کے لیے تیار ہیں۔ ان کی واپسی کو بی این پی کے کارکنوں نے ایک نئی زندگی کے طور پر دیکھا ہے، تاہم طارق رحمان نے اقتدار سنبھالنے سے قبل ہی نظم و ضبط اور مفاہمت کی سیاست پر زور دینا شروع کر دیا ہے۔
وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد طارق رحمان کو کئی اہم محاذوں پر کام کرنا ہوگا ،کئی ماہ کی بدامنی کے بعد معیشت کو سہارا دینا اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا۔ بنگلہ دیش کی پہچان 'گارمنٹس انڈسٹری' کو بحران سے نکالنا۔ گزٹ نوٹیفکیشن کے بعد نئی حکومت کی حلف برداری اور آئینی ریفرنڈم کی روشنی میں تبدیلیوں کا نفاذ۔
بی این پی کی جانب سے جشن کے بجائے دعا کی یہ اپیل ظاہر کرتی ہے کہ پارٹی اقتدار کو طاقت کے بجائے ایک بھاری ذمہ داری کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ اب پوری دنیا کی نظریں ڈھاکہ پر جمی ہیں کہ طارق رحمان کس طرح ملک کو اس عبوری دور سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔