نیویارک :خالصتان تحریک کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی ناکام سازش کے کیس میں ایک بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ بھارتی شہری نکھل گپتا نے امریکی وفاقی عدالت میں اپنے جرائم کا باقاعدہ اعتراف کر لیا ہے، جس کے بعد ان کے لیے طویل المدتی قید کی سزا کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق، نکھل گپتا نے نیویارک کی عدالت میں جج کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ امریکی سرزمین پر ایک سکھ رہنما کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔
امریکی پراسیکیوٹرز نے عدالت کو بتایا کہ نکھل گپتا براہِ راست ایک بھارتی سرکاری اہلکار کے ساتھ رابطے میں تھے، جس نے انہیں اس قتل کا ہدف دیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق مذکورہ اہلکار نے نکھل گپتا کو ہدایت دی تھی کہ وہ نیویارک میں مقیم گرپتونت سنگھ پنوں کو نشانہ بنانے کے لیے کرائے کے قاتل کا بندوبست کریں۔ نکھل گپتا نے جس شخص سے رابطہ کیا، وہ دراصل امریکی انڈر کور ایجنٹ نکلا، جس کی وجہ سے یہ سازش ناکام ہو گئی۔
امریکی قوانین کے تحت نکھل گپتا کو ان جرائم پر 40 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ نکھل گپتا کو گزشتہ برس چیک جمہوریہ سے گرفتار کیا گیا تھا اور طویل قانونی جنگ کے بعد انہیں امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا۔