اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خواتین کے سماجی و معاشی استحکام سے متعلق اپنے وعدوں کو صرف اعلانات تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں عملی اقدامات کی صورت میں نافذ کریں۔
اسلام آباد میں منعقدہ او آئی سی کی خواتین سے متعلق نویں وزارتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے رکن ممالک کے وفود کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ او آئی سی ممالک کو چاہیے کہ وہ بچیوں کی تعلیم، خواتین کی قیادت، کاروباری مواقع، مالیاتی شمولیت اور صنفی تشدد کے خاتمے کے لیے واضح اور قابلِ پیمائش اہداف مقرر کریں۔
یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے تعلیم، ڈیجیٹل شمولیت، کاروباری مواقع، مالیاتی سہولیات اور باعزت روزگار کی فراہمی کے حوالے سے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومتِ پاکستان اور پارلیمنٹ او آئی سی کے رکن ممالک اور پارلیمانی یونین آف او آئی سی (PUIC) کے ساتھ مل کر خواتین کی ترقی اور خودمختاری کے مشترکہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ہر ممکن تعاون کریں گے۔
چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ او آئی سی ممالک کی مجموعی آبادی کا تقریباً نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے، اس لیے کسی بھی ملک کے لیے نصف افرادی قوت کو معاشی اور سیاسی عمل سے الگ رکھ کر جامع اور پائیدار ترقی حاصل کرنا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام نے چودہ سو سال قبل ہی خواتین کو تعلیم، جائیداد، وراثت، معاشی سرگرمیوں میں شرکت اور باوقار زندگی کا حق دیا، جبکہ قرآنِ کریم اور حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات آج بھی خواتین کے باوقار اور مؤثر کردار کے لیے بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
یوسف رضا گیلانی نے تعلیم، حکمرانی، سائنس، سفارتکاری، تجارت اور عوامی خدمت سمیت مختلف شعبوں میں مسلم خواتین کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو پاکستان اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا وژن آج بھی نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، وسیلۂ تعلیم، خواتین کی کاروباری سرگرمیوں، مالیاتی شمولیت، ڈیجیٹل مہارتوں اور ای کامرس کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے اپنے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں منظور کیے گئے اہم قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملازمت کی جگہ ہراسانی، تیزاب گردی اور خواتین کے خلاف امتیازی و ظالمانہ رسوم کے خاتمے کے لیے مؤثر قانون سازی کی گئی، جس کا مقصد خواتین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا تھا۔