Get Alerts

سوڈان: ریپڈ سپورٹ فورسز کی طرف سے خواتین اور بچوں کے خلاف نسلی بنیادوں پر تشدد، اقوام متحدہ کا تشویش کا اظہار

سوڈان: ریپڈ سپورٹ فورسز کی طرف سے خواتین اور بچوں کے خلاف نسلی بنیادوں پر تشدد، اقوام متحدہ کا تشویش کا اظہار

نیویارک : اقوام متحدہ کی خواتین کی تنظیم نے سوڈان میں جاری جنگ کے دوران ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کی جانب سے نسلی بنیادوں پر خواتین اور بچوں کو قتل، زیادتی اور اغوا کرنے کی بڑھتی ہوئی رپورٹوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سوڈان کے دارفور خطے کے الفاشر شہر میں جنگ کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے، جہاں آر ایس ایف اور سوڈانی فوج کے درمیان اڑھائی سال سے جھڑپیں جاری ہیں۔ الفاشر سے بے گھر ہونے والے افراد نے بتایا کہ شہریوں کو سڑکوں پر فائرنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ڈرون حملوں کے ذریعے حملے کیے جا رہے ہیں۔ فرار ہونے والی خواتین نے اطلاع دی کہ اس علاقے میں قتل، عصمت دری اور بچوں کو اغوا کیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی مشرقی اور جنوبی افریقہ کے لیے ریجنل ڈائریکٹر، انا موٹاوتی نے بتایا کہ خواتین کو انتہائی اذیت اور جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اور واضح ثبوت موجود ہے کہ عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوڈان میں خواتین کی لاشیں اب ایک عام منظر بن چکی ہیں اور اب وہاں کوئی محفوظ مقام نہیں ہے جہاں خواتین پناہ لے سکیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق، دارفور میں قحط کی صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے، جہاں تقریبا 11 ملین خواتین اور لڑکیاں غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور کھانے کے حصول کے دوران جنسی تشدد کا سامنا کر رہی ہیں۔ دارفور کی فیلڈ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ خواتین جنگلی پتے اور بیر کی تلاش میں ہیں تاکہ وہ کھانا حاصل کر سکیں، لیکن اس دوران انہیں اغوا، جنسی تشدد اور دیگر مظالم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ دارفور کے علاقے میں خواتین اور لڑکیوں کے لیے یہ وقت بہت زیادہ خطرناک ہے، اور اس ماہ ایک عالمی آبزرویٹری نے جنوبی سوڈان کے الفاشر اور کڈوگلی شہروں میں قحط کے پھیلنے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ ان شہروں میں پھانسی، عصمت دری اور نسلی بنیادوں پر تشدد کی کارروائیاں جاری ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق، 26 اکتوبر سے تقریباً 82,000 افراد الفاشر اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے نقل مکانی کر چکے ہیں، جبکہ شہر کی آبادی کے تخمینے کے مطابق 18 ماہ تک جاری رہنے والے محاصرے کے اختتام تک تقریباً 2 لاکھ افراد ابھی بھی شہر میں محصور ہیں۔

ٹیگز: