نئی دہلی /واشنگٹن: امریکی دباؤ اور مغربی پابندیوں کے خدشات کے بعد بھارت نے روس سے تیل کی خریداری تقریباً مکمل طور پر بند کر دی ہے۔
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے دسمبر کے لیے روسی خام تیل کے آرڈر نہیں دیے، جو عموماً ہر ماہ کی 10 تاریخ تک فائنل کر دیے جاتے ہیں۔ بھارت کی پانچ بڑی آئل ریفائنریز نے رواں ماہ روس سے کوئی نئی خریداری نہیں کی، جبکہ سرکاری ریفائنری انڈین آئل کارپوریشن (IOC) نے اعلان کیا ہے کہ وہ صرف غیر پابندی یافتہ سپلائرز سے روسی تیل خریدے گی۔
واضح رہے کہ امریکا نے روس سے تیل خریدنے پر بھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر رکھا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ بھارت روسی تیل خرید کر یوکرین میں "جنگی مشین" کو ایندھن فراہم کر رہا ہے۔
امریکی دباؤ کے بعد بھارت نے واشنگٹن کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ مستقبل میں روس سے تیل کی خریداری میں کمی کرے گا، اور اس پیش رفت کو بھارت کی توانائی پالیسی اور عالمی تجارتی تعلقات میں بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔