غزہ / رام اللہ : فلسطینی تنظیم حماس نے 20 اسرائیلی یرغمالیوں کو بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے حوالے کر دیا ہے جبکہ اسرائیلی فوج نے یرغمالیوں کی رہائی کی تصدیق کی ہے۔ بدلے میں تقریباً 1700 فلسطینی قیدیوں کو بھی آزاد کیا گیا ہے، جنہیں مختلف جیلوں سے غزہ اور مغربی کنارے میں منتقل کیا گیا ہے۔
حماس کی جانب سے رہائی مرحلہ وار کی گئی، جس میں پہلے 7 اور بعد میں 13 یرغمالیوں کو رہا کیا گیا۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے رہائی پانے والوں کے نام بھی جاری کیے ہیں جن میں متان اینگریسٹ، ایتان مور، گلی برمن اور دیگر شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اپنے سوشل میڈیا پر رہائی پانے والوں کی تصاویر بھی شئیر کیں۔
تاہم اسرائیلی حکام نے واضح کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام یرغمالیوں کی لاشیں ابھی واپس نہیں مل سکیں گی۔ اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ریڈ کراس کی نگرانی میں ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی۔
دوسری جانب، 250 فلسطینی قیدیوں میں سے 135 کو غزہ یا بیرون ملک منتقل کیا جائے گا جبکہ دیگر کو مغربی کنارے منتقل کیا جائے گا۔ قیدیوں کو تبادلے سے پہلے نگیو کی کیتسیوت جیل اور رام اللہ کے قریب اوفر جیل میں منتقل کیا گیا ہے تاکہ تبادلہ عمل باضابطہ طور پر مکمل ہو سکے۔
غزہ میں جاری جنگ بندی کے بعد ملبے سے لاشیں نکالنے کا عمل بھی جاری ہے، جہاں اب تک 67 ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں اور زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 70 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ امدادی تنظیمیں خبردار کر رہی ہیں کہ ملبے کے نیچے اب بھی سیکڑوں لاپتہ افراد موجود ہو سکتے ہیں۔