Get Alerts

روس نے یوکرین میں فوری جنگ بندی کے امکان کو مسترد کردیا

 روس نے یوکرین میں فوری جنگ بندی کے امکان کو مسترد کردیا

ماسکو: روس نے یوکرین میں فوری جنگ بندی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ماسکو کسی عارضی وقفے کے بجائے تنازع کے مستقل اور قابلِ عمل حل کو ترجیح دیتا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں فوری جنگ بندی کا فیصلہ ممکن نہیں۔

روسی سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے سرگئی لاروف نے کہا کہ جنگ بندی صرف اسی وقت ہونی چاہیے جب اس کے ساتھ دیرپا امن کی ضمانت موجود ہو۔ ان کے مطابق محض لڑائی روک دینے سے تنازع کے بنیادی مسائل ختم نہیں ہوں گے، اس لیے ایسا اقدام طویل المدتی حل کا حصہ ہونا چاہیے۔

روسی وزیر خارجہ نے یوکرین کی فوجی استعداد بڑھانے میں مغربی ممالک کے کردار پر بھی سخت اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس مغرب کی جانب سے یوکرین کو فراہم کیے جانے والے فوجی سازوسامان اور دیگر معاونت کے خلاف اپنی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو ان ذرائع کو روکنے کی کوششیں تیز کرے گا جو یوکرین کی جنگی مشین کو مضبوط بنا رہے ہیں۔

لاروف نے امریکا پر یوکرین کے روسی اہداف کے خلاف حملوں میں مبینہ طور پر براہ راست معاونت کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے یوکرین کو انٹیلی جنس معلومات فراہم کیے جانے سمیت دیگر معاونت بھی کی جا رہی ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ماسکو نے اس معاملے پر امریکی محکمہ خارجہ سے وضاحت طلب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس نے امریکی حکام سے انٹیلی جنس معلومات کی مبینہ فراہمی اور روسی سرزمین پر ہونے والے حملوں میں امریکی کردار سے متعلق متعدد سوالات کیے ہیں اور اب واشنگٹن کے جواب کا انتظار ہے۔

امریکی جانب سے روس کے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم روس کا مؤقف ہے کہ یوکرین کو مغربی فوجی مدد ملنے سے جنگ کے خاتمے کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو رہی ہیں۔

سرگئی لاروف نے اس کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کے امکانات کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی نمائندے یوکرین کے معاملے پر دوبارہ روس آنا چاہیں تو ماسکو ان سے بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اصل سوال یہ ہوگا کہ وہ نئی ملاقات میں کیا تجاویز لے کر آتے ہیں۔

روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات فروری کے بعد سے تعطل کا شکار ہیں، جبکہ امریکی ثالثی کی کوششیں بھی موجودہ علاقائی صورتحال کے باعث متاثر ہوئی ہیں۔ اس دوران یوکرین نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی مذاکرات کاروں کو اپنی تجاویز فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

ادھر بحیرہ اسود میں بھی کشیدگی کم کرنے کی تجاویز پر ماسکو نے محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔ روس نے یوکرین کے ساتھ بحیرہ اسود میں جنگ بندی کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جزوی اقدامات مسئلے کا مستقل حل فراہم نہیں کرتے۔

لاروف کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماسکو فوری جنگ بندی کے بجائے ایسے وسیع تر سیاسی معاہدے پر زور دے رہا ہے جس میں روس کے مطالبات اور سکیورٹی خدشات کو بھی شامل کیا جائے۔ دوسری جانب جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم فریقین کے درمیان ابھی تک کسی حتمی سمجھوتے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

ٹیگز: