ماسکو: روس نے اپنے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، جس سے ملک بھر میں لاکھوں افراد کی ذاتی اور انکرپٹڈ مواصلات متاثر ہو رہی ہیں۔ کریملن کے حکام نے 12 فروری 2026 کو اس فیصلے کی تصدیق کی، جس کے مطابق اب واٹس ایپ کے ذریعے پیغامات اور کالز کی سہولت روس میں دستیاب نہیں ہوگی۔
روس کے اس اقدام کا اثر تقریباً 100 ملین صارفین پر پڑے گا، جو واٹس ایپ کو اپنی روزمرہ کی بات چیت اور ذاتی معلومات کی حفاظت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ واٹس ایپ پر پابندی سے قبل، یہ سروس روسی شہریوں کے درمیان سب سے زیادہ مقبول میسجنگ ایپ کے طور پر جانی جاتی تھی، جہاں صارفین انکرپٹڈ پیغامات بھیجنے اور ویڈیو کالز کرنے میں سہولت محسوس کرتے تھے۔
روس کے حکام نے اس پابندی کو ملک کی داخلی سیکیورٹی کے تناظر میں ضروری قرار دیا ہے، اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ واٹس ایپ سمیت دیگر ایپس کی نگرانی کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، اس پابندی کا مقصد غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام اور معلومات کے تبادلے پر کنٹرول کو یقینی بنانا ہے۔
یہ پابندی روس میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر حکومت کی جانب سے نافذ کی جانے والی سخت نگرانی کے سلسلے میں ایک اور قدم ہے۔ روس میں پہلے بھی مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ویب سائٹس پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں، اور اس فیصلے کو ان اقدامات کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
واٹس ایپ پر پابندی کے بعد، روس میں دیگر مواصلاتی پلیٹ فارمز جیسے ویچٹ، ٹلیگرام اور ویبو پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ پلیٹ فارمز حکومتی پالیسیوں کے مطابق کام کریں۔