واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت گیر پالیسی اپناتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی طاقت میں بڑے اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق جدید ترین طیارہ بردار بحری جہاز "یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ" کو مشرقِ وسطیٰ روانہ کیا جا رہا ہے تاکہ تہران پر سفارتی اور فوجی دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ ایران کے ساتھ ایک نیا معاہدہ (Deal) چاہتا ہے، تاہم انہوں نے تہران کو متنبہ بھی کیا اگر ایران کے ساتھ نیا معاہدہ طے نہ پایا تو مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی طاقت کا استعمال ناگزیر ہو سکتا ہے۔
مذاکرات میں ناکامی کی صورت میں ایران کو "سنگین نتائج" کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ایک امریکی بحری بیڑہ پہلے ہی خطے میں موجود ہے، تاہم نئی تعیناتی دباؤ کو مزید بڑھا دے گی۔
امریکی صدر نے ایران کی داخلی سیاست پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "ایران میں اقتدار کی تبدیلی بہترین چیز ہوگی جو ہو سکتی ہے"۔ تاہم، انہوں نے سفارت کاری کا دروازہ کھلا رکھتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوں گے اور وہ ایک نئے سمجھوتے تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
بین الاقوامی دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کی تعیناتی سے خطے میں تزویراتی توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا اور اس کے ایٹمی و میزائل پروگرام پر سخت شرائط منوانا ہے۔