کولمبو : کرکٹ کی دنیا کے سب سے بڑے ٹاکرے یعنی پاک۔ بھارت میچ سے قبل میدانِ جنگ کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ 15 فروری کو کولمبو میں ہونے والے اس اہم مقابلے سے پہلے ماہرینِ کرکٹ اور شائقین کے درمیان ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار اور انڈین بلے بازوں کی کارکردگی یہ اشارہ دے رہی ہے کہ جو سپن باؤلنگ کبھی انڈیا کی سب سے بڑی 'ڈھال' تھی، اب وہی ان کی سب سے بڑی 'کمزوری' بن چکی ہے۔
حالیہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچوں میں انڈیا کی فتوحات کے باوجود ان کے بلے بازوں کا سپنرز کے خلاف جدوجہد کرنا اب محض اتفاق نہیں رہا۔ نمیبیا کے خلاف میچ میں جب انڈین ٹاپ آرڈر نے 7 اوورز میں 104 رنز بنا لیے تھے، تو ایسا لگتا تھا کہ وہ ایک بڑا پہاڑ جیسا سکور کھڑا کریں گے۔ لیکن جیسے ہی نمیبیا کے کپتان جیرارڈ ایراسمس نے سپن کا جادو چلایا، انڈین بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ ایشان کشن، ہاردک پانڈیا اور اکشر پٹیل جیسے منجھے ہوئے کھلاڑی محض 20 رنز کے عوض پویلین لوٹ گئے۔ اس سے قبل امریکی لیگ سپنر محمد محسن اور ہرمیت سنگھ نے بھی انڈین سٹارز کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارتی بلے باز اب گیند کے ٹرن ہونے پر گھبراہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں، جو کہ پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔
پاکستان نے اس ٹورنامنٹ میں اپنی روایتی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے فاسٹ باؤلنگ کے ساتھ ساتھ سپن پر غیر معمولی توجہ دی ہے۔ پاکستان نے نیدرلینڈز اور امریکہ کے خلاف میچوں میں مجموعی طور پر 13 وکٹیں صرف سپن کے ذریعے حاصل کیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ پاکستانی سپن اٹیک اس وقت بہترین فارم میں ہے۔
عثمان طارق کا منفرد بولنگ ایکشن اور گیند پھینکنے سے قبل کا 'وقفہ'انڈیا کے لیے سب سے بڑا دردِ سر بن سکتا ہے۔ انڈین آف سپنر آر ایشون نے بھی خبردار کیا ہے کہ عثمان طارق کا ایکشن سمجھنا بھارتی بلے بازوں کے لیے آسان نہیں ہوگا اور وہ اس میچ میں پاکستان کا 'ٹرمپ کارڈ' ثابت ہوں گے۔
کولمبو کی پچیں روایتی طور پر سپنرز کے لیے جنت سمجھی جاتی ہیں۔ یہاں کی مٹی میں موجود نمی اور ٹرن پاکستان کے سپنرز کو مزید خطرناک بنا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر 'ارجن' اور 'ورون' جیسے انڈین صارفین بھی اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر نمیبیا اور امریکہ کے سپنرز انڈیا کو پریشان کر سکتے ہیں، تو پاکستان کا منجھا ہوا سپن اٹیک کولمبو میں تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
سابق کرکٹرز کا کہنا ہے کہ انڈیا کی یہ کمزوری گذشتہ ایک دو سالوں سے واضح ہے۔ نیوزی لینڈ نے انڈیا کو ہوم گراؤنڈ پر 3-0 سے شکست دی، جبکہ جنوبی افریقہ کے سپنر سائمن ہارمر نے 17 وکٹیں لے کر انڈین بیٹنگ کی قلعی کھول دی تھی۔ آر ایشون نے اعتراف کیا ہے کہ اس وقت بھارتی بیٹنگ یونٹ سپنرز کا سامنا کرنے میں دنیا میں شاید سب سے کمزور ہے۔
پاکستان کے پاس اس وقت ایک ایسا متوازن سپن اٹیک موجود ہے جو ہر قسم کی ورائٹی (لیگ سپن، آف سپن اور مسٹری سپن) سے لیس ہے۔ اگر پاکستانی کپتان نے ٹاس جیت کر یا کنڈیشنز کو بھانپ کر درست وقت پر سپنرز کا استعمال کیا، تو یہ انڈیا کے خلاف حالیہ برسوں کی سب سے بڑی فتح حاصل کرنے کا بہترین موقع ہو سکتا ہے۔