Get Alerts

مولانا فضل الرحمان کا بیان اور حقیقت

مولانا فضل الرحمان کا بیان اور حقیقت

تحریر: طارق وسیم

مولانا  فضل الرحمان نے  انکشاف  کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے حالات بہت خراب ہیں ،پولیس غروب آفتاب سے طلوع سحر تک صوبے کی  سڑکوں پر نہیں نکل سکتی ۔مولانا قابل احترام شخصیت ہیں ،زمینی حقائق سے بھی  واقفیت رکھتے ہیں،خیبر پختونخوااور بلوچستان میں ان کے مریدین  کی  بہت بڑی تعداد آباد ہے،لیکن مولانا کا ایک مسئلہ ہے وہ بہت زیادہ ہی سوچ سمجھ کر بات کرتے ہیں ،جس کی وجہ سے ان کی بات کا وزن کم  ہوجاتا ہے ۔
خیبر پختونخوا میں حالات خراب ہوں گے، لیکن کیا 2005 سے بھی زیادہ خراب ہیں جب مولانا  فضل  الرحمان  اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تھے ۔ خیبر پختونخوا میں ایم ایم اے کی حکومت تھی  اور مولانا کی جماعت کے اکرم درانی وزیر اعلیٰ تھے ۔
 مولاناکو  یاد تو ہوگا وہ وقت  ،وہ جن خراب حالات کا ذکر  کر رہے ہیں وہ بنوں  ،ڈیرہ اسماعیل خان اور کرک تک   محدود ہیں ،لیکن  مولانا کیونکہ دور اندیش ہیں اور جانتے ہیں کہ  خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں عالمی سازش  کے تحت کم ازکم 5 ممالک متحرک ہیں ،بھارت اور  افغانستان   کے نام تو سب  کو پتہ ہیں، لیکن 2اور  ایسے ممالک بھی ہیں ۔ حقیقت یہ  ہے کہ مولانا کو سب پتہ ہے بلکہ شاید کچھ زیادہ ہی پتہ ہے ،وہ افغان جنگ سے کافی کچھ سیکھ چکے  ہیں ۔
 مولانا پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت سے واقف ہیں ،جس کے وہ شاید خلاف بھی نہیں ہیں لیکن ایسی صورتحال میں ان کے لیے انتخابات جیتنا شاید پہلے سے بھی مشکل ہو جائے گا ،یہی وجہ ہے مولانا نے سید منور حسن بننے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے،، وہی بیان داغ دیا ہے جو بطور امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے 2013  میں  دیا تھا ،،لیکن منور حسن میں اور  مولانا میں فرق ہے ۔یہی وجہ ہے کہ خواجہ آصف نے بھی مولانا کو کچھ سمجھانے کی کوش کی ہے ،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مولانا ضرورت سے زیادہ سمجھدار ہیں۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا  ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں  اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔

ٹیگز: