اسلام آباد سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) نے ملک میں انفرادی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے 'سہولت اکاؤنٹ' کے قوانین میں اہم ترمیم کر دی ہے۔ نئے اعلان کے مطابق، اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی حد کو 30 لاکھ روپے تک بڑھا دیا گیا ہے، تاکہ چھوٹے سرمایہ کاروں اور نوجوانوں کو کیپٹل مارکیٹ کی جانب راغب کیا جا سکے۔
ایس ای سی پی کے مطابق، سرمایہ کاروں کے لیے درج ذیل آسانیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔ سرمایہ کاری کی سابقہ حد 10 لاکھ روپے تھی جسے اب بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔اب سرمایہ کار ایک سے زائد بروکرز کے ساتھ سہولت اکاؤنٹس کھول سکیں گے، تاہم ایک بروکر کے پاس صرف ایک اکاؤنٹ رکھنے کی اجازت ہوگی۔یہ اکاؤنٹ کسی پیچیدہ دستاویز کے بغیر صرف قومی شناختی کارڈ کے ذریعے کھولا جا سکتا ہے اور اس کے لیے آن لائن رجسٹریشن کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
کمیشن نے سرمایہ کاروں، خاص طور پر نوجوان نسل کو خبردار کیا ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر موجود غیر قانونی اور غیر مجاز غیر ملکی پلیٹ فارمز پر سرمایہ کاری کر کے اپنا پیسہ ضائع نہ کریں۔ ایس ای سی پی نے زور دیا ہے کہ قانونی تحفظ اور منافع کے لیے صرف پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے پلیٹ فارم کا انتخاب کیا جائے۔
ایس ای سی پی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت ملک میں انفرادی سرمایہ کاروں کے سب اکاؤنٹس کی تعداد 5 لاکھ 42 ہزار ہے، جبکہ انویسٹر اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی تعداد 1 لاکھ 44 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ حد میں اضافے کے بعد ان اکاؤنٹس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔