اسلام آباد: بھارت و پاکستان تنازع اور پڑوسی ممالک کے کردار پر ایشین انسٹیٹیوٹ آف ایکوسولائزیشن ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے زیر اہتمام منعقدہ ویب نار میں شریک مقررین نے بھارت کی جانب سے خطے میں کشیدگی پیدا کرنے والے اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
نیپال کے سفیر یوبا ناتھ لامسال نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد پاکستان نے بین الاقوامی اور غیر جانب دار تحقیقات کا مطالبہ کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا اس حملے میں کوئی کردار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا بار بار پاکستان پر الزامات لگانا اور اسے اشتعال دلانا ایک خطرناک اور غیر دانشمندانہ پالیسی ہے۔
سری لنکا سے تعلق رکھنے والے برسل کے بانی ڈائریکٹر یاسرو رانا راجہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف سری لنکا کو مشکل وقت میں پاکستان کی طرف سے غیر معمولی تعاون ملا۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور پائیدار امن کی کوششوں میں شریک ہوں۔
بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے سینئر نائب صدر محبوب عالم شاہ نے یاد دلایا کہ بنگلہ دیش نے بھارتی تسلط کے خلاف سب سے پہلے آواز اٹھائی اور علاقائی تعاون کی خاطر سارک (SAARC) کے قیام کی تجویز دی۔ تاہم، بھارتی رویے کے باعث سارک عملاً معطل ہے، جس سے پورا خطہ متاثر ہو رہا ہے۔
چین سے تعلق رکھنے والی جنوبی ایشیائی امور کی ماہر ڈاکٹر لی ہونگ می نے کہا کہ بھارت نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر پڑوسی ممالک سے بھی کشیدہ تعلقات رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت بظاہر تعاون کی بات کرتا ہے لیکن عملی طور پر تصادم کی راہ اختیار کرتا ہے۔
ویب نار میں شریک پاکستانی سفیروں شاہد ہشمت اور معین الحق نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مسائل کا حل صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے۔ معین الحق نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن بھارت نے جنگ مسلط کی۔میجر جنرل (ر) عابد لطیف نے کہا کہ پاکستان امن کا داعی ہے، لیکن جارحیت کی صورت میں اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا جانتا ہے۔
ویبینار کے اختتام پر اے آئی ای آر ڈی کے سی ای او شکیل احمد رامے نے کہا کہ خطے میں پائیدار ترقی اور امن کے لیے علاقائی تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے اور سارک کو فوری فعال بنایا جانا چاہیے۔