پشاور : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے نومنتخب وزیراعلیٰ کی حلف برداری کے لیے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں درخواست دائر کی اور کہا کہ 8 اکتوبر کو علی امین گنڈا پور نے وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دے دیا تھا، جس کی تصدیق کے لیے 11 اکتوبر کو دوبارہ استعفیٰ گورنر کو بھیجا گیا تھا، جو کہ گورنر نے وصول کر لیا تھا۔
سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 130 کی شق 8 کے مطابق جب گورنر کو استعفیٰ موصول ہو جائے تو وزیراعلیٰ مستعفی تصور ہوگا، اور گورنر نے بھی ٹویٹ کر کے استعفیٰ کی وصولی کی تصدیق کی تھی۔ تاہم، ان کے مطابق، گورنر اب ارادی طور پر استعفیٰ سے ناواقفیت ظاہر کر رہے ہیں، جس کے باعث صورتحال پیچیدہ ہو گئی ہے۔
پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ چونکہ گورنر صوبے میں موجود نہیں ہیں اور ان کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے، اس لیے چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ وہ کسی دوسرے فرد کو حلف لینے کے لیے نامزد کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئین کے مطابق چیف جسٹس کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو حلف برداری کے لیے نامزد کر سکتے ہیں۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی گورنر کی غیر موجودگی میں حلف برداری کے لیے نامزدگی چاہتے ہیں، اور آیا سپیکر یا اپوزیشن سے کسی نے اس حوالے سے کوئی رابطہ کیا ہے؟ اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ابھی تک کوئی پٹیشن دائر نہیں کی گئی، اور یہ سوال اٹھایا کہ کیا اتنی جلدی ہے یا گورنر کی واپسی کا انتظار نہیں کیا جا سکتا۔
سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ گورنر کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا کہ اسمبلی کا اجلاس ہونے جا رہا ہے، اور اب مزید انتظار نہیں کیا جا سکتا۔ چیف جسٹس نے اس پر اٹارنی جنرل سے رپورٹ طلب کی کہ آیا گورنر کو حلف برداری کی سمری موصول ہوئی ہے یا نہیں۔ عدالت نے اس معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے اٹارنی جنرل سے رپورٹ طلب کر لی۔