اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی مبینہ ریاست مخالف اور پُرتشدد سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جماعت کے کئی اہم عہدیداروں کے مالی اثاثہ جات اور بینک ٹرانزیکشنز کی جانچ پڑتال جاری ہے۔
تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ ماضی میں ہونے والے پُرتشدد احتجاج اور دھرنوں کے لیے مبینہ طور پر غیرقانونی فنڈنگ کی گئی، جس کے تحت مختلف بینکوں میں موجود متعدد اکاؤنٹس کو منجمد کر دیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق یہ کارروائیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں، املاک کو نقصان پہنچانے اور ریاست مخالف بیانیے کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جن میں بعض افراد کی بیرونِ ملک سے ہونے والی ترسیلات بھی زیرِ تفتیش ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹی ایل پی کے کئی مرکزی و مقامی عہدیداروں کو بھی آئندہ دنوں میں شاملِ تفتیش کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فنڈنگ نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔
مزید برآں، ایف آئی اے نے بینکنگ اور مالیاتی اداروں سے ریکارڈ طلب کر لیا ہے تاکہ غیرقانونی رقوم کی ترسیل اور ان کے استعمال کی مکمل تفصیلات حاصل کی جا سکیں۔
ادھر تحریک لبیک کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی سرکاری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔