برمنگھم : انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں نوجوان پاکستانی آل راؤنڈر رضا اللہ کی کارکردگی اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہی۔ پہلے ٹیسٹ میں انہوں نے تقریباً 90 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرتے ہوئے جو روٹ جیسے تجربہ کار بیٹر کی وکٹ حاصل کی تو سوشل میڈیا پر انہیں پاکستان کا نیا وقار یونس قرار دیا گیا۔
دوسرے دن رضا اللہ نے مزید تین وکٹیں تو حاصل کیں، تاہم 148 رنز دینے پر ان کی بولنگ پر تنقید بھی ہوئی۔ تیسرے دن انہوں نے بیٹنگ میں شاندار انداز اپناتے ہوئے 81 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی اور 9 چھکے لگائے، جس کے بعد ایک بار پھر ان کی تعریفیں ہونے لگیں۔
ان کی بے خوف بیٹنگ نے شائقین کو سابق پاکستانی اسٹار شاہد آفریدی کی یاد دلا دی۔ تاہم رضا اللہ کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ ابتدائی کامیابیوں کے بعد بھی خود کو زمین سے جڑا رکھیں اور مسلسل محنت کے ذریعے اپنی جگہ مضبوط کریں۔
رضا اللہ کی کارکردگی نے ایک بار پھر پاکستان کے ٹیلنٹ اور سلیکشن کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اگر ملک میں ٹیلنٹ موجود ہے تو اسے بروقت تلاش کرکے مواقع دینا ضروری ہے۔
دوسری جانب انگلینڈ کے خلاف سیریز میں پاکستان کی 72 سال بعد کلین سوئپ شکست کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کپتان، کوچ اور کئی کھلاڑی تبدیل ہونے کے باوجود نتائج بہتر نہ ہوسکے۔
پاکستان ٹیسٹ ٹیم اس وقت آئی سی سی چیمپئن شپ میں آخری نمبروں پر ہے، جبکہ بیرونِ ملک مسلسل ناقص نتائج تشویش کا باعث ہیں۔ رضا اللہ کی شاندار اننگز امید کی کرن ضرور ہے، لیکن مستقل بہتری کے لیے سلیکشن، کوچنگ اور ٹیم مینجمنٹ میں بھی سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔