Get Alerts

عدالتی اصلاحات کا مقصد بہتر انصاف کی فراہمی ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

عدالتی اصلاحات کا مقصد بہتر انصاف کی فراہمی ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

اسلام آباد:سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ججز، سینئر وکلا، اٹارنی جنرل، سپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کونسل کے عہدیداران نے شرکت کی۔

 چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا اصلاحاتی ایجنڈا 5 بنیادی ستونوں پر مشتمل ہے، جن میں ٹیکنالوجی پر مبنی سروس ڈیلیوری، انصاف تک رسائی، شفافیت، قانونی و ریگولیٹری فریم ورک کی مضبوطی اور انصاف کے اداروں کی فعالیت شامل ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ اصلاحات کا حتمی مقصد عوام کو بہتر انصاف فراہم کرنا ہے، جبکہ عدالتی آزادی کے ساتھ ادارہ جاتی احتساب بھی ضروری ہے۔

 چیف جسٹس کے مطابق 8 شعبوں میں 86 اصلاحاتی اقدامات میں سے 65 مکمل ہوچکے ہیں، 8 پر کام درست سمت میں جاری ہے جبکہ 13 اقدامات پر مزید توجہ درکار ہے۔

 جسٹس یحییٰ آفریدی نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں مقدمات کی ڈیجیٹائزیشن اور بارکوڈنگ پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ای فائلنگ، ای آفس، پیپر لیس کورٹس اور فیصلوں و احکامات کی الیکٹرانک ترسیل بھی ڈیجیٹل اصلاحات کا حصہ ہیں۔

 چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیجیٹل اصلاحات کے اگلے مرحلے میں مربوط ڈیجیٹل نظامِ انصاف قائم کیا جائے گا، جس کیلئے مضبوط ڈیٹا انفراسٹرکچر اور مؤثر سائبر سکیورٹی ضروری ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ، ہائیکورٹس اور ضلعی عدلیہ کیلئے یکساں قومی ای فائلنگ فریم ورک پر پیش رفت جاری ہے، جبکہ صوبائی بار کونسلز اور اسلام آباد بار کونسل کو بھی اس عمل میں شامل کیا گیا ہے۔

 جسٹس یحییٰ آفریدی کے مطابق سپریم کورٹ نے ثالثی اور متبادل حلِ تنازعات کے فروغ کو بھی اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔ بین الاقوامی عدالتی تعاون میں بھی توسیع ہوئی ہے اور چین و ترکیہ کی اعلیٰ عدالتوں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر عملدرآمد جاری ہے۔

 چیف جسٹس نے مزید بتایا کہ سپریم کورٹ میں عوامی سہولت مرکز، ڈیجیٹل رابطہ کاری اور فیڈبیک نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے، جبکہ لاہور رجسٹری میں عوامی سہولت مرکز نومبر کے وسط تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ٹیگز: