اسلام آباد/تہران/جدہ : خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور مستقل جنگ بندی کے لیے پاکستان نے ایک ساتھ دو اہم محاذوں پر بڑی سفارتی پیش رفت کا آغاز کر دیا ہے۔ ایک طرف وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب میں موجود ہیں تو دوسری طرف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ ایران پہنچ گئے ہیں۔
سینئر تجزیہ کار نصر اللہ ملک نے اس صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی وفد تہران پہنچا جہاں ان کا بھرپور خیر مقدم کیا گیا۔ وفد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی شامل ہیں۔ تہران میں پاکستانی قیادت کی ملاقاتیں ایرانی اعلیٰ قیادت سے ہوں گی جن کا محور ایران امریکہ مذاکرات کا اگلا مرحلہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے معاملات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔اسلام آباد میں ہونے والے ابتدائی مذاکرات کے بعد، اب دونوں ممالک (ایران اور امریکہ) کی جانب سے رکھی گئی شرائط پر حتمی مشاورت ہو رہی ہے۔ ان دونوں دوروں کا بنیادی مقصد ان نکات کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے جو ایک مستقل جنگ بندی اور باقاعدہ اعلامیہ کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
ان کامزید کہنا تھا کہ پاکستان کی حکمت عملی اس وقت دو حصوں میں تقسیم ہے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کا وفد سعودی قیادت سے بات چیت کر رہا ہے تاکہ خطے کے اہم سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جا سکے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایرانی قیادت کے ساتھ ان تکنیکی اور تزویراتی نکات پر بات کر رہے ہیں جن سے جنگ بندی کا معاہدہ ممکن ہو سکے۔
ان کامزید کہنا تھا کہ ان دوروں کے اختتام پر جب یہ وفود وطن واپس لوٹیں گے، تو قوی امکان ہے کہ "اسلام آباد اکارڈ" یا "اسلام آباد معاہدہ" کا اعلان کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ خطے میں ماضی کی دوریوں کو ختم کرنے اور مستقل امن کے قیام کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوگا۔ یاد رہے کہ پاکستان ماضی میں بھی سعودی عرب اور ایران کے تعلقات بہتر کروانے میں کلیدی کردار ادا کر چکا ہے، اور موجودہ کوششیں اسی تسلسل کی ایک کڑی ہیں تاکہ مشرق وسطیٰ کو ایک بڑی جنگ سے بچایا جا سکے۔
پاکستان امن مشن پر،ایک وفد سعودی عرب اور دوسرا وفد ایران پہنچ گیا،جنگ بندی کے حوالے سے کونسا بڑا معاہدہ ہونے والاہے؟نصراللہ ملک نے کھل کر بتا دیا!@NasrullahMalik1 #America #DonaldTrump #Iran #Pakistan #NasrullhaMalik #AsimMunir #PakAmry #NeoNews pic.twitter.com/7JjKSz1OKz
— Neo News (@NeoNewsUR) April 15, 2026