Get Alerts

غریب گھرانے سے کرائم مافیا تک،’’ انمول پنکی‘‘ کو یہ 'دبنگ کانفیڈنس' کس نے دیا؟۔۔۔سینیئر تجزیہ کار فواد احمد کے اہم انکشافات

غریب گھرانے سے کرائم مافیا تک،’’ انمول پنکی‘‘ کو یہ 'دبنگ کانفیڈنس' کس نے دیا؟۔۔۔سینیئر تجزیہ کار فواد احمد کے اہم انکشافات

سینئر تجزیہ کار فواد احمد کے وی لاگ کی روشنی میں "ڈرگ کوئین پنکی" کے کیس، اس کے رویے اور اس سے جڑے سیاسی و قانونی پہلوؤں کا ایک جامع خلاصہ درج ذیل ہے۔
سینیئر تجزیہ کار فواد احمد کے مطابق پنکی جب شروع میں عدالت آئی تو اس کے اندر ایک خاص قسم کا اوور کانفیڈنس   تھا۔ وہ کسی مافیا ڈان یا بھارتی فلم کے سین کی طرح دبنگ انداز میں پیش ہوئی اور خود کو ایک اچھوتا "برانڈ" سمجھتی رہی جسے کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔
سینئر تجزیہ کار فواد احمد  کے مطابق  قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پنکی کی سب سے بڑی غلطی خود کو عدالتوں سے اوپر سمجھنا تھا۔ تاہم، حالیہ پیشی پر وہ بدلی ہوئی نظر آئی اور اس کا وہ پرانا 'برانڈ' والا غرور ٹوٹ چکا تھا، کیونکہ یہ پاکستان ہے جہاں بہرحال عدالتیں اور قانون موجود ہیں۔
   فواد احمد نے  وی لاگ  میں کہاکہ  پنکی نے معاشرے میں منشیات کی سپلائی اور فروخت کا روایتی طریقہ کار تبدیل کیا، جس کی وجہ سے وہ اس مکروہ دھندے میں تیزی سے آگے بڑھی ۔      حقیقت میں پنکی کا تعلق ایک انتہائی غریب گھرانے سے تھا، لیکن راتوں رات "ڈان" اور "برانڈ" بننے کی اندھی خواہش نے اسے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ اس کی باقاعدہ ایک کرائم ہسٹری ہے اور اس پر کئی مقدمات درج ہیں۔
     سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ انمول پنکی محض ایک بہانہ ہے تاکہ اس کیس کی آڑ میں ملک میں 28 ویں ترمیم لائی جا سکے اور کسی مخصوص صوبے پر سیاسی دباؤ بڑھایا جائے۔سینیئرتجزیہ کار فواد احمد نے اس مؤقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے۔ پنکی کے کیس کو بنیاد بنا کر نہ تو کسی صوبے کو پریشر میں لایا جائے گا اور نہ ہی اس معاملے کو اتنی ہائیپ دینے کی کوئی ضرورت ہے۔
تاہم قانون کا گھیرا اب ڈرگ ڈیلرز کے گرد تنگ ہو رہا ہے۔ پنکی نے اگرچہ بڑے بڑے نام لیے ہیں جس سے نظام میں ہلچل مچ سکتی ہے، لیکن تجزیہ کار کے مطابق یہ خالصتاً ایک مجرمانہ کیس ہے جسے کسی بڑی سیاسی تبدیلی یا آئینی ترمیم کا ذریعہ نہیں بنایا جائے گا۔

ٹیگز: