تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے "بے بنیاد الزامات" کا سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) سے علیحدگی اختیار کر لے گا۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب سعید ایراوانی نے سلامتی کونسل میں باضابطہ خط جمع کرایا ہے، جس میں مغربی ممالک کے طرزِ عمل کو معاندانہ قرار دیا گیا ہے۔
خط میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اگر یورپی طاقتوں نے ایران پر پابندیاں بحال کرنے کی کوشش کی تو تہران "آرٹیکل 10" کے تحت این پی ٹی سے نکلنے کا عمل شروع کر دے گا۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ مغرب کے کسی بھی اقدام کا "متناسب اور قانونی" جواب دے گا۔
ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کا چھٹا دور بھی منسوخ ہو چکا ہے۔ عمان کے وزیر خارجہ نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ مذاکرات مسقط میں ہونا تھے، جو اب نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا، "ہم سمجھتے ہیں کہ بات چیت اور سفارت کاری ہی خطے میں دیرپا امن کے لیے واحد راستہ ہیں، لیکن فریقین میں اعتماد کی شدید کمی ہے۔"
ایران نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ وہ امریکا کے ساتھ اتوار کو شیڈول مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق، "ایسے وقت میں جب اسرائیل ایران پر جارحانہ حملے کر رہا ہے، امریکا کے ساتھ مذاکرات کا کوئی مطلب نہیں بنتا۔"
انہوں نے مزید کہا کہ، "اسرائیل کے وحشیانہ اقدامات اور امریکا کی خاموش حمایت نے خطے میں سفارتی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔"