لاہور : اردو ادب کے معروف شاعر، مزاح نگار، سفرنامہ نگار اور مترجم ابن انشاء کا یومِ پیدائش آج 15 جون کو منایا جا رہا ہے۔
ابن انشاء کا اصل نام شیر محمد خان تھا اور وہ 15 جون 1927ء کو جالندھر (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد 1946ء میں جامعہ پنجاب سے بی اے اور 1953ء میں جامعہ کراچی سے ایم اے کیا۔
ابن انشاء کا شمار اردو کے ان مایہ ناز ادیبوں میں ہوتا ہے جنہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ نثر، طنز و مزاح اور سفرنامہ نگاری میں بھی اپنی انفرادیت قائم کی۔ ان کی مشہور تصانیف میں "چاند نگر" (شعری مجموعہ)، "اردو کی آخری کتاب" (طنزیہ نثر)، "چلتے ہو تو چین کو چلئے" (سفرنامہ) اور "دنیا گول ہے" (سفرنامہ) خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
ابن انشاء کی شاعری میں رومانویت اور سادگی نمایاں ہے، جب کہ ان کی نثر میں عصرِ حاضر کا شعور اور طنز کی کاٹ بھی پائی جاتی ہے۔ ان کے سفرنامے نہ صرف معلوماتی ہوتے تھے بلکہ قاری کو مسکراہٹ بھی بخشتے تھے۔
ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا۔
ادبی حلقوں کی جانب سے ابن انشاء کو آج کے دن بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے، اور ان کے چاہنے والے ان کی یاد میں ان کا کلام سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں۔
ابن انشاء کا مشہور شعر آج بھی دلوں کو چھو جاتا ہے:
"انشاء جی اُٹھو اب کوچ کرو، اس شہر میں جی کو لگانا کیا"