مذہبی سکالر انجینئر محمد علی مرزا قاتلانہ حملے میں زخمی

مذہبی سکالر انجینئر محمد علی مرزا قاتلانہ حملے میں زخمی
کیپشن: مذہبی اسکالر انجینیئر محمد علی مرزا قاتلانہ حملے میں زخمی
سورس: فائل فوٹو

جہلم: مذہبی سکالر انجینئر محمد علی مرزا قاتلانہ حملے میں زخمی ہوگئے، پولیس نے مقدمہ درج کرکے دوملزمان کوگرفتارکرلیا۔

گزشتہ روز جہلم میں ہفتہ وار لیکچر کے دوران حملہ آور نے انجینئر محمد علی مرزا پر چاقو سے وار کیا جس سے محمد علی مرزا کے بازو پر معمولی زخم آیا۔

 پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کی شناخت لاہور کے رہائشی شہزاد علی کے نام سے ہوئی ہے۔ تھانہ سٹی میں مقدمہ درج کر کے 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ انجینئر علی محمد مرزا خود کوصرف مسلمان قرار دیتے ہیں اور خود کو کسی فرقے اور گروہ کے ساتھ نہیں جوڑتے، وہ جہلم میں ایک مذہبی تعلیمی ادارہ بھی چلاتے ہیں جہاں وہ طلباء کو قرآن و حدیث کی تعلیمات بھی دیتے ہیں، دین اسلام کے دیگر فرقوں کے علمائے کرام ان پر اکثر و بیشتر تنقید کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔

محمد علی مرزا نواجوان اور پڑھے لکھے طبقے میں بے حد مقبول ہیں۔ وہ سنی، شیعہ، وہابی سمیت تمام مکتبہ فکر میں شامل غلط چیزوں پر کھل کر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ تمام مکاتب فکر پر تنقید کی وجہ سے انجینئر محمد علی مرزا کو اس سے پہلے بھی دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔ 

واضح رہے کہ مئی 2020ء میں جہلم پولیس نے آن لائن مذہبی لیکچر دینے پر ان کو اس وقت گرفتار کیا جب ان کی ایک پرانی ویڈیو وائرل ہوئی کیونکہ ان کے خلاف سیکشن 153 اے کے تحت مقدمہ درج کر کے انھیں گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم انھوں نے جلد عدالت سے رجوع کیا اور انھیں وہاں سے چھ مئی کو ضمانت مل گئی۔ اور دو روزہ گرفتاری کے بعد ان کو رہا کیا گیا تھا۔