Get Alerts

بھارت منصوبہ بندی کیساتھ پاکستان میں عدم استحکام چاہتا ہے وزیر خارجہ

India wants instability in Pakistan with planning: Foreign Minister
کیپشن: فائل فوٹو

ملتان: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت منصوبہ بندی کیساتھ پاکستان میں عدم استحکام چاہتا ہے۔ ہمیں متحد ہو کر دشمن کے عزائم کو سمجھنا اور ناکام بنانا ہے۔ تمام مکتبہ فکر کوملک کا تشخص اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا کو بھارت کے گرینڈ ڈیزائن کا نوٹس لینا چاہیے۔ بھارت پاکستان کیخلاف ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے۔ بھارتی اقدامات سے خطے کا امن داؤ پر لگ سکتا ہے۔ بھارت نے دہشت گردوں کی تربیت کیلئے کیمپ بنا رکھا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں بھی بھارت کے ارادے ٹھیک نہیں ہیں۔ یہ پاکستان کی بقا اور خوشحالی کا مسئلہ ہے۔ ایٹمی جنگ خود کشی کے مترادف ہے۔ تمام شواہد عوام اور دنیا کے سامنے رکھ دیئے ہیں۔ بھارت نے ایک سیل بنا رکھا ہے جس کا مقصد سی پیک کو نقصان پہنچانا ہے۔ سی پیک کیخلاف سیل کو 80 ارب روپے کی فنڈنگ کی گئی۔ بھارت نے پڑوسی ملک میں کیمپ بنا رکھے ہیں۔ بھارت کی یہ حرکتیں انٹرنیشنل قوانین اور کنونشن کی خلاف ورزی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس شواہد جمع ہو چکے ہیں جو بہت ٹھوس ہیں۔ جب تمام شواہد جمع ہو گئے تو انہیں پبلک کرنے کا فیصلہ کیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت منصوبہ بندی سے پاکستان میں عدم استحکام چاہتا ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کے موقف کو اجاگر کرنے کیلئے جبکہ صدر مملکت نے بھی اس مسئلے کی اہمیت کو بھانپتے ہوئے ٹویٹ کیا۔ بھارت سمیت دنیا پاکستان کی صلاحیتوں سے بخوبی آگاہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو افغان صدر نے دورہ افغانستان کی دعوت دی ہے۔ پائیدار امن کے قیام کیلئے پاکستان اور افغانستان کو مشترکہ حکمت عملی بنانی چاہیے۔ افغانستان میں امن کا قیام پاکستان کیلئے بھی اہم ہے۔ دنیا سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر قیام امن کیلئے کوششیں کرے۔

اپوزیشن کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قومی اداروں پر حملہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ قومی اداروں کیخلاف بیانیہ آئین کے بھی خلاف ہے۔ خود مسلم لیگ (ن) کا ایک حصہ اپنی قیادت کے بیانیے سے متفق نہیں ہے۔ اپوزیشن جماعتیں پہلے یہ فیصلہ تو کرلیں کہ وہ چاہتی کیا ہیں؟