اسلام آباد: پمز کی ایم سی ایچ نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے کی انکوائری رپورٹ جاری کردی گئی۔ وزیراعظم شہباز شریف کے حکم پر قائم تحقیقاتی کمیٹی نے آتشزدگی کی وجوہات، حفاظتی انتظامات اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کا جائزہ لیا۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت پمز نرسری میں 15 نومولود بچے زیرِ علاج تھے، جن میں سے 14 جاں بحق ہوئے جبکہ ایک بچہ محفوظ رہا۔ سی سی ٹی وی ریکارڈ کے مطابق شام تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر آگ واضح طور پر بھڑک چکی تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فرنٹ لائن عملے نے فوری طور پر نومولود بچوں کو بچانے کی کوشش کی۔ نرس رضیہ نورین ایک بچے کو بحفاظت باہر نکالنے میں کامیاب رہیں، جبکہ دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ عملے نے بچوں کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑا۔
نیشنل فرانزک ایجنسی کے تکنیکی شواہد کے مطابق آگ لگنے کی سب سے زیادہ ممکنہ وجہ اے سی یونٹ نمبر 2 کی بجلی کی کیبل میں برقی خرابی تھی۔ رپورٹ کے مطابق آتش گیر مواد اور آکسیجن والے ماحول کے باعث آگ اور دھوئیں کی شدت میں اضافہ ہوا۔
تحقیقاتی کمیٹی نے قرار دیا کہ نرسری میں مؤثر فائر ڈیٹیکشن، الارم، اسپرنکلر اور نومولود بچوں کے انخلا کا باقاعدہ مشق شدہ نظام موجود نہیں تھا، جبکہ بیرونی امداد بھی آگ لگنے کے تقریباً 16 منٹ بعد فعال ہوئی۔
رپورٹ میں پمز اور اعلیٰ انتظامیہ پر بنیادی ادارہ جاتی ذمہ داری عائد کی گئی ہے، تاہم انفرادی ذمہ داری کے تعین کے لیے مزید تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔
کمیٹی نے فائر سیفٹی اور برقی حفاظتی آڈٹ، مؤثر الارم اور فائر فائٹنگ نظام کی تنصیب، نومولود بچوں کے محفوظ انخلا کے لیے خصوصی ایس او پیز اور باقاعدہ فائر ڈرلز کرانے کی سفارش بھی کی ہے۔