Get Alerts

حالات ہمارے کنٹرول میں نہیں، ملک کو 4 ہزار میگاواٹ شارٹ فال کا سامنا": اویس لغاری 

حالات ہمارے کنٹرول میں نہیں، ملک کو 4 ہزار میگاواٹ شارٹ فال کا سامنا

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس لغاری نے ملک میں بجلی کی حالیہ صورتحال پر اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے حقائق عوام کے سامنے رکھ دیے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ملک کو اس وقت مجموعی طور پر 4 ہزار میگاواٹ کے شارٹ فال کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے پیک آورز (مصروف ترین اوقات) میں لوڈشیڈنگ پر وہ عوام سے معذرت خواہ ہیں۔
وزیرِ توانائی نے بتایا کہ اس بحران کی دو بڑی وجوہات ہیں۔     ڈیموں سے پانی کے کم اخراج کے باعث پن بجلی (Hydel) کی پیداوار گزشتہ سال کے 3200 میگاواٹ سے گر کر صرف 1676 میگاواٹ رہ گئی ہے۔     یکم اپریل سے درآمدی گیس (LNG) کی سپلائی متاثر ہونے سے ایل این جی پلانٹس سے بجلی کی پیداوار میں تقریباً 2500 میگاواٹ کی کمی آئی ہے۔
اویس لغاری نے واضح کیا کہ دن کے وقت کوئی لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی اور دیہی و شہری علاقوں سمیت صنعتی شعبے میں بھی یکساں لوڈشیڈنگ کا فارمولا اپنایا گیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ لوڈشیڈنگ کا ایک مقصد بجلی کی قیمتوں کو مزید بڑھنے سے روکنا ہے، کیونکہ حکومت مہنگی ایل این جی یا ایندھن خرید کر عوام پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتی۔
وفاقی وزیر نے اسے ایک عارضی صورتحال قرار دیتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی پن بجلی کی پیداوار بڑھے گی اور گیس کا انتظام ہوگا، لوڈشیڈنگ ختم کر دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت قطر سے سستی ایل این جی کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ بجلی کے استعمال میں کفایت شعاری برتیں تاکہ رات کے اوقات میں کم سے کم لوڈشیڈنگ کرنی پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ "آج رات کی صورتحال گزشتہ رات سے بہتر ہوگی اور یہ مشکل وقت جلد گزر جائے گا۔

ٹیگز: