Get Alerts

اسرائیلی حکومت کا مغربی کنارے کے وسیع علاقوں کو ریاستی ملکیت قرار دینے کا فیصلہ

اسرائیلی حکومت کا مغربی کنارے کے وسیع علاقوں کو ریاستی ملکیت قرار دینے کا فیصلہ

یروشلم: اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسیع علاقے کو ریاستی ملکیت قرار دینے کی منظوری دے دی ہے، جس سے فلسطینیوں کی زمینوں پر مزید قبضے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق، اسرائیل کی حکومت نے 1967 سے معطل زمین کے اندراج کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت فلسطینیوں کو اپنی ملکیت ثابت کرنے کے لیے دستاویزات فراہم کرنی ہوں گی۔ اس فیصلے کو اسرائیلی جارحیت کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے فلسطینیوں کی زمینوں پر اسرائیلی قبضہ مزید مستحکم ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب، اسرائیل کی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں۔ تازہ حملوں میں غزہ کے علاقے میں مزید 11 فلسطینی شہید ہوگئے، جب کہ لبنان اور شام کی سرحد پر ڈرون حملوں میں 4 لبنانی شہری بھی شہید ہو گئے ہیں۔

علاوہ ازیں، اسرائیلی این جی او "ہتزلخا" کی جانب سے اسرائیل کے "فریڈم آف انفارمیشن" قانون کے تحت حاصل کی گئی معلومات کے مطابق، اسرائیلی فوج میں 50 ہزار سے زائد اہلکاروں کے پاس اسرائیلی شہریت کے علاوہ دیگر ممالک کی شہریت بھی ہے۔ ان میں اکثریت امریکی اور یورپی شہریوں کی ہے، جن میں 12 ہزار سے زائد امریکی، 6 ہزار فرانسیسی، 5 ہزار روسی، 4 ہزار یوکرینی اور 1,600 جرمن شہری شامل ہیں۔

اس حوالے سے عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، برطانیہ، جرمنی، فرانس، بیلجیئم اور دیگر ممالک میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی فوج میں شامل غیر ملکی شہریوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، اور کچھ ممالک میں ابتدائی تحقیقات بھی شروع ہو چکی ہیں، مگر تاحال کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

ٹیگز: