Get Alerts

پنجاب کے تمام وسائل نوجوانوں پر خرچ کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکیں ، مریم نواز

 پنجاب کے تمام وسائل نوجوانوں پر خرچ کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکیں ، مریم نواز

گجرات: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گجرات یونیورسٹی میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال پر شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے لوگ اب بھی پتھر کے دور میں زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں ترقی کا کوئی شعور نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے بچوں کے ذہنوں میں تشدد اور نفرت بھری جا رہی ہے، جس سے انہیں ترقی کے راستے پر چلنا مشکل ہو رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقتدار آتا جاتا رہتا ہے اور یہ مٹھی سے ریت کی طرح پھسلتا ہے، لیکن اُنہوں نے پنجاب کے نوجوانوں کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ مریم نواز نے وعدہ کیا کہ پنجاب کے تمام وسائل نوجوانوں پر خرچ کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "آپ نے جو بھی خواب دیکھنا ہے، میں آپ کے لیے تمام وسائل فراہم کرنے کے لیے یہاں ہوں۔"

مریم نواز نے ہونہار سکالرشپس، لیپ ٹاپس اور دیگر تعلیمی فوائد کی فراہمی پر بھی بات کی اور کہا کہ یہ سب 100 فیصد میرٹ پر دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی طالب علم کو کسی سفارش پر فائدہ نہیں دیا جا رہا، بلکہ جو بچہ میرٹ پر ہے، اسے اس کا حق مل رہا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ وہ جین زی (جنریشن زی) کے لیے خوش ہیں اور اسے پنجاب کا مستقبل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نسل ہی ملک کی بقا کے لیے اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2026 نوجوانوں کا سال ہوگا اور ان کی کوشش ہے کہ پنجاب کے نوجوانوں کی زندگی میں کوئی کمی نہ ہو، اور وہ تمام سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ نوجوان اپنا مستقبل بہتر بنا سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے بچوں کے ہاتھوں میں ہتھیار اور زبان پر گالی ہے، جبکہ پنجاب کے بچوں کے ہاتھوں میں ہونہار سکالرشپس، لیپ ٹاپس اور ٹیکنیکل ٹریننگ جیسے مواقع ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کے لاکھوں بچے تعلیمی اداروں میں مفت گرین بسیں استعمال کرتے ہیں اور وہ ترقی کی راہوں پر گامزن ہیں۔

مریم نواز نے آخر میں کہا کہ وہ پہلے پاکستانی ہیں پھر پنجابی، اور خیبرپختونخوا کی حکومت صرف شعور دینے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے راستے بند کرنے سے پنجاب کو کوئی فرق نہیں پڑتا، اور سندھ کے مریضوں کا علاج بھی جاری رہتا ہے۔

ٹیگز: