اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کا نام برطانیہ کی ایئر سیفٹی لسٹ سے نکلنا ایک اہم کامیابی ہے، جس سے قومی ایئر لائن اور ملک کی ساکھ کو بڑا فائدہ ہوگا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ یہ پابندی اُس وقت لگی تھی جب پی ٹی آئی حکومت کے وزیر ہوا بازی نے پارلیمنٹ میں یہ کہہ دیا تھا کہ پاکستان کے بہت سے پائلٹس کے پاس جعلی لائسنس ہیں۔ ان کے مطابق اُس غیر ذمہ دار بیان سے نہ صرف پی آئی اے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا بلکہ پاکستان کی عالمی ساکھ کو بھی شدید دھچکا لگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات کہنا کہ ہمارے پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں، ریاست کے خلاف ایک سنگین اور مجرمانہ حرکت تھی، اور آج تک اس بیان کی کوئی وضاحت بھی نہیں دی گئی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی بڑی تعداد پی آئی اے سے سفر کرتی ہے، اور برطانیہ کی پابندی کے باعث ان کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اب اس فیصلے کے بعد نہ صرف ان پاکستانیوں کو آسانی ہوگی بلکہ پی آئی اے کے لیے بین الاقوامی پروازوں کا دروازہ دوبارہ کھل گیا ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں بھی مدد دے گی۔ حکومت اگلے مرحلے میں ایئر لائن کے روٹس بحال کر کے نجکاری کا عمل آگے بڑھائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے خود اس معاملے میں ذاتی دلچسپی لی اور عالمی اداروں سے مشاورت کر کے اس پابندی کو ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہم ان عالمی اداروں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے رہنمائی کی اور ہمیں یہ سنگ میل عبور کرنے میں مدد دی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ برطانیہ سے پابندی کے خاتمے سے نہ صرف پی آئی اے کے بین الاقوامی روٹس بحال ہوں گے بلکہ نجکاری کے عمل میں بھی قومی ایئرلائن کی قدر میں اضافہ ہوگا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ حکومت نیویارک سمیت دیگر بین الاقوامی روٹس کی بحالی کے لیے بھی کوشاں ہے۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی ذاتی دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کامیابی میں ان کا کلیدی کردار رہا ہے۔