Get Alerts

ڈیٹا سینٹرز اور پاکستان میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ضابطہ کار کا فقدان

ڈیٹا سینٹرز اور پاکستان میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ضابطہ کار کا فقدان

تحریر: مہتاب خان

چند روز قبل یہ خبر سامنے آئی کہ پاکستان تقریباً 230 ملین ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری سے ایک بڑے مصنوعی ذہانت (AI) ڈیٹا سینٹر کے قیام کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اس اعلان پر مختلف حلقوں کی جانب سے متضاد ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ ایک طبقے نے اسے ملک میں جدید ٹیکنالوجی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا، جبکہ دوسرے حلقوں نے ایسے منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا جو ایسے ملک میں قائم کیا جا رہا ہے جہاں توانائی اور پانی پہلے ہی محدود وسائل ہیں۔ دونوں آراء اپنی جگہ درست ہو سکتی ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان مصنوعی ذہانت جیسی طاقتور ٹیکنالوجی کو کسی مؤثر قانونی اور ریگولیٹری نظام کے بغیر اپنا رہا ہے؟

اقوام متحدہ کی یونیورسٹی (UN University) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی کھپت 2030 تک 945 ٹیرا واٹ آور (TWh) تک پہنچ سکتی ہے، جو پاکستان، بنگلہ دیش اور نائجیریا کی مجموعی سالانہ بجلی کی کھپت سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2030 تک مصنوعی ذہانت کے نظام اتنا پانی استعمال کر سکتے ہیں جتنا 1.3 ارب افراد کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار ہوتا ہے۔ آئرلینڈ نے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث 2028 تک نئے ڈیٹا سینٹرز کو بجلی کے گرڈ سے منسلک کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان AI کے بڑے منصوبے تو بنا رہا ہے، مگر اس کے استعمال اور اثرات کو منظم کرنے کے لیے کوئی مضبوط فریم ورک موجود نہیں۔

دنیا کے مختلف ممالک اس وقت AI ریگولیشن پر تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ یورپی یونین، امریکہ، برطانیہ اور سنگاپور مصنوعی ذہانت کے استعمال، نگرانی اور قانونی دائرہ کار کے لیے مختلف ماڈلز تیار کر رہے ہیں۔ پاکستان کو بھی اپنی معاشرتی، معاشی اور انتظامی ضروریات کے مطابق ایسا نظام تشکیل دینا ہوگا، کیونکہ یہاں کے حالات ترقی یافتہ ممالک سے مختلف ہیں۔


یہ تصور درست نہیں کہ ٹیکنالوجی ہمیشہ غیر جانبدار ہوتی ہے۔ درحقیقت ہر نئی ٹیکنالوجی اداروں، سماجی ڈھانچوں اور طاقت کے توازن کو متاثر کرتی ہے۔ جس طرح سوشل میڈیا نے سیاست، صحافت اور سماجی رویوں کو بدل دیا، اسی طرح AI بھی مختلف شعبوں میں گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔

مثال کے طور پر اگر کوئی بینک قرض کی منظوری کے لیے AI استعمال کرتا ہے تو اس کے فیصلے ماضی کے ایسے ڈیٹا سے متاثر ہو سکتے ہیں جن میں پہلے سے موجود تعصبات شامل ہوں۔ اگر کوئی سرکاری ادارہ شناخت کی تصدیق کے لیے AI استعمال کرے تو خواتین، بزرگ شہریوں یا کم ڈیجیٹل مہارت رکھنے والے افراد کے لیے غلطیوں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ اسی طرح فوجداری نظام میں AI کا استعمال ایسے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے جو پہلے ہی غیر مساوی نظام سے حاصل شدہ معلومات پر مبنی ہوں۔

یہ خدشات محض نظریاتی نہیں بلکہ عالمی سطح پر ان کی مثالیں موجود ہیں۔ حال ہی میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر مختلف کمپنیاں ملازمت کے امیدواروں کی جانچ کے لیے ایک ہی AI نظام استعمال کریں تو ایک کمپنی کی جانب سے کسی امیدوار کو غلط بنیاد پر مسترد کیے جانے کا امکان دوسری کمپنیوں کے فیصلوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے، جبکہ امیدوار کے پاس اس فیصلے کے خلاف مؤثر اپیل کا حق بھی نہیں ہوتا۔

اگرچہ پاکستان کی قومی AI پالیسی 2025 میں اخلاقیات اور جدت کا ذکر موجود ہے، لیکن صرف اعلانات کافی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے حالات کے مطابق تحقیق، نگرانی اور آزادانہ آڈٹ کا مؤثر نظام وضع کیا جائے۔ خاص طور پر مالیاتی اداروں، صحت، تعلیم اور عدالتی نظام میں استعمال ہونے والے AI سسٹمز کا باقاعدہ جائزہ لینا قانون کا حصہ ہونا چاہیے۔


مصنوعی ذہانت کو ایک ہی قانون کے ذریعے منظم کرنے کی کوشش مؤثر ثابت نہیں ہوگی، کیونکہ ہر شعبے میں AI کا کردار اور خطرات مختلف ہیں۔

مثال کے طور پر یوٹیوب پر ویڈیوز تجویز کرنے والا AI اور ملازمت کے امیدواروں کی جانچ کرنے والا AI ایک جیسے نہیں ہیں۔ دونوں کے مقاصد، خطرات اور اثرات الگ ہیں، اس لیے ان کے لیے الگ الگ قواعد و ضوابط درکار ہوں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ AI سے وابستہ غیر ضروری جوش و خروش سے بھی بچنا ہوگا۔ موجودہ AI نظام بعض اوقات غلط معلومات گھڑ لیتے ہیں، جعلی حوالہ جات پیش کرتے ہیں یا ایسے نتائج دیتے ہیں جن کی وضاحت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے ہر شعبے میں AI کے استعمال سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کس مقصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے، اس کی حدود کیا ہیں، اس سے نقصان کس کو پہنچ سکتا ہے اور متاثرہ افراد کو انصاف کیسے فراہم کیا جائے گا۔


دنیا بھر میں اس وقت سب سے اہم بحث یہی ہے کہ مصنوعی ذہانت کس مقصد کے لیے استعمال ہونی چاہیے۔ یورپی یونین کے AI ایکٹ میں انسانی حقوق، انسانی اختیار اور تحفظ کو محض کارکردگی سے زیادہ اہم قرار دیا گیا ہے۔ امریکہ میں بھی AI کے نقصانات اور ڈیٹا سینٹرز پر ٹیکس سے متعلق بحث دراصل اسی سوال کے گرد گھوم رہی ہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی کی قیمت کون ادا کرے گا۔

پاکستان کو بھی یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ AI سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کیا مقصد صرف معاشی ترقی ہے؟ یا بہتر سرکاری خدمات، معیاری تعلیم اور جدید صحت کی سہولیات بھی اس کا حصہ ہیں؟ اگر ان بنیادی سوالات پر پہلے غور نہ کیا گیا تو AI ایسے فیصلے کرنے لگے گی جو کمزور طبقات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں یا ایسی کارکردگی کو فروغ دیں گے جو انسانی صلاحیتوں کی ترقی کو محدود کر دے۔

سوشل میڈیا کے معاملے میں بھی ہم نے پہلے ٹیکنالوجی اختیار کی اور بعد میں اس کے فوائد اور نقصانات پر بحث شروع کی۔ مصنوعی ذہانت کے معاملے میں یہ غلطی دوبارہ نہیں دہرانی چاہیے۔


ڈیٹا سینٹر کی تعمیر کا منصوبہ اپنی جگہ اہم ہو سکتا ہے، مگر اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایسا انفراسٹرکچر ایسے وقت میں قائم کر رہا ہے جب اس کے استعمال، نگرانی اور فوائد کی منصفانہ تقسیم کے لیے کوئی جامع قانونی نظام موجود نہیں؟

جس طرح ٹریفک قوانین کے بغیر شاہراہیں، لائسنس کے بغیر طبی خدمات یا جانچ کے بغیر ادویات متعارف نہیں کرائی جاتیں، اسی طرح مصنوعی ذہانت کو بھی واضح قوانین، نگرانی اور احتساب کے نظام کے بغیر فروغ دینا دانشمندانہ نہیں ہوگا۔

اصل سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان AI ڈیٹا سینٹر بنائے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ملک اس نئی ٹیکنالوجی کو ایسے ضابطہ جاتی ڈھانچے کے ساتھ اپنانے کے لیے تیار ہے جو اس کے فوائد سب تک پہنچا سکے اور ممکنہ نقصانات سے معاشرے کو محفوظ رکھ سکے۔

 نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا  ضروری نہیں ہے .

مہتاب خان کلیولینڈ اسٹیٹ یونیورسٹی کالج آف لا میں اسسٹنٹ پروفیسر اور ٹیکنالوجی قانون کے ماہر ہیں۔ انہوں نے یو سی برکلے سے انٹرنیٹ اور قانون پر ڈاکٹریٹ کی ہے۔ وہ مصنوعی ذہانت (AI)، انٹلیکچوئل پراپرٹی اور ٹیکنالوجی قانون کے شعبوں میں تدریس اور تحقیق سے وابستہ ہیں، جبکہ امریکہ، پاکستان اور ملائیشیا میں بطور وکیل بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
 
 
 

ٹیگز: