Get Alerts

ایک کشتی کے سوار

ایک کشتی کے سوار

اس وقت پاکستان اور پاکستانی قوم کا مستقبل ایک طرف مگر حکومتی جماعت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن  جماعتوں سمیت سب ایک ہی کشتی میں سوار ہیں۔ ایک کشتی میں سوار کیسے؟یہ بات آپ سب کے ذہن میں آرہی ہوگی وہ اس طرح سے کہ حکومتی جماعت اپنے اقتدار بچانے میں اور اپوزیشن اقتدار حاصل کرنے میں مصروف عمل ہیں۔کیونکہ سب اقتدار میں ہی رہنا چاہتے ہیں اسی وجہ سے اس وقت سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں اب کشتی کس پار لگتی ہے سب اسی بات کے انتظار میں ہیں۔
تحریک عدم اعتماد کے اس سیاسی ماحول میں رابطہ مہم،سیاسی توڑ جوڑ کا عمل تو آخر دن تک جاری رہے گا۔
وزیر اعظم عمران خان کی ایک بڑی پرانی عادت ہے اُنہیں جھکنا بالکل پسند نہیں اور وہ اپنے فیصلوں پہ بھی اٹل رہتے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان جو کہ اپنے بیمار ساتھیوں کی عیادت کے لیے کبھی نہیں جایا کرتے تھے وہ ساتھی جنہوں نے دن ـ ـ ـ رات ان کو کامیاب کروانے میں وقف کر دیا اُن کی کی گئی محنتوں کو اس طرح سے بھول گئے کہ اُن کے دُنیا سے رخصت ہو جانے پہ اُن کے جنازے تک میں شرکت نہ کی کہ سکیورٹی خدشات ہیں مگر عدم اعتماد نے تو وزیر اعظم کو شاید ہلا دیا آخر کرسی کا سوال ہے وزات عظمیٰ کی کرسی چھوڑنا تو کسی سے برداشت نہیںہوتا۔اسی وجہ سے اپنی کرسی کو محفوظ کرنے کے لیے پچھلے دنوں وہ بہت سے پارٹی لیڈران کی عیادت کو بھی گئے۔
ایک بات جو زبان زدعام ہے کہ حکومتی جماعت نے (ق)لیگ کے رہنما چوہدری پرویز الہی کو پنجاب کا وزیراعلیٰ بنانے کی پیشکش کی ہے۔مگر میں اس بات سے اتفاق بالکل نہیں کروں گی میرے ٹھوس ذرائع کے مطابق یہ خواہش پرویز الٰہی کی طرف سے تھی جس کو وزیر اعظم نے رد کر دیا ،اسی بات کیوجہ سے پچھلے دنوں وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے بھی اپنی کرسی بچانے کے لیے بھی دوڑ لگائی ہوئی تھی انہوں نے وزیر اعظم سے اور پارٹی کے دیگر اہم وزراء اور ایم پی ایز سے ملاقاتیں کیں۔اس سے پہلے بارہا مواقع آئے کہ وزیر اعلی کو ہٹایا جائے مگر وزیر اعظم اپنے اس فیصلے پہ اٹل رہے۔
 چوہدری پرویز الٰہی کے وزیراعلیٰ بننے کی اس پیشکش کو جیسے رد کیا گیا تو اُن کی طرف سے کچھ گو مگو بیانات جاری ہونے شروع ہوگئے۔دوسری طرف سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی نے صوبے کے حوالے سے ایم کیو ایم کے مطالبات تسلیم کر لیے جن پہ عملدآمد کی ضمانت مولانا فضل الرحمن اور میاں شہباز 
شریف نے دیدی ان دو بڑے اقدام کے بعد چوہدری پرویز الٰہی کا بیان نہایت اہمیت اختیار کر گیا وہ یہ کہ (ق) لیگ،ایم کیو ایم،اور بی اے پی ایک پلیٹ فارم پہ ہیں ،اور ہم اپنا فیصلہ کر چُکے ہیں۔اب رسمی مشاورت جاری ہے اور یہ بھی ایک اہم بات کہی کہ اسمبلیاں برقرار رہیں گی ۔ہم اپوزیشن میں گئے تو وزارتوں سے استعفی دیں گے۔
یہ بات بھی متوقع ہے کہ اتحادی جماعتیں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے کسی بھی وقت ملاقات ہو سکتی ہے ۔(ق) لیگ ،ایم کیو ایم،بی اے پی،کے منحرف دھڑے کے رہنمائوں کے بیانات سے اس امکان کو تقویت ملتی ہے کہ یہ پارٹیاں عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت کر سکتی ہیں۔جہاں تک پی ٹی آئی کے منحرف اور ناراض گروپوں کا تعلق ہے تو اُن کا موقف ابھی پوری طرح واضح نہیں ۔اس ساری صورتحال کے بعد بھی وفاقی وزراء اور ،وزیر اعظم سمیت اُن کو اس بات کا یقین ہے کہ اتحادی جماعتیں کہیں نہیں جارہیں مگر اندر ہی اندر سے اُن کو منانے کی سر توڑ کوششیں جاری ہیں۔ایک طرف پی ڈی ایم کا لانگ مارچ تو دوسری طرف حکومتی جماعت کا جلسہ اس اقتدار کی کھینچا تانی میں میرے خیال سے تشدد اور لا قانونیت کو دعوت دینے والی بات ہو گی۔
وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد سے پیدا ہونے والی صورتحال ابھی تک فریقین کے متضاد دعوئوں تک محدود ہے اور یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ آخر کار اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔اپوزیشن اس وقت مہنگائی کو ٹارگٹ اور عوامی مسائل کو بنیاد بنا کر تحریک عدم اعتماد کی سر توڑ کوششیں جاری ہیں۔
دوسری طرف  وزیر اعظم عمران خان نے اس بات سے انحراف کرتے ہوئے یہ بات کہی کہ میں آلو ،پیاز،ٹماٹر سستا کرنے نہیں آیا بلکہ عوام کو ایک قوم بنانے آیا ہوں۔وزیر اعظم صاحب ذرا ٹھہرئیے!
آپ یہاں پہ درست نہیں سوچ رہے؟ آپ کی اس سوچ سے کم از کم میں اتفاق بالکل نہیں کر سکتی۔میں یہاں ایک مثال دونگی کہ ایک گھر کا سر براہ ایک باپ ہوتا ہے۔اب باپ کا گھر میں حکم ہے کہ تمام اولاد کو صرف ایک ماہ کے تہذیب اور زندگی گزارنے کے قوائد و ضوابط سکھائے جائیں تو پھر ان کو کھانا دیا جائے گا کیا کہنے قوائد و ضوابط گئے تیل لینے ایک ماہ کے بعد کوئی زندہ بچے گا تو اصول باقی رہیں گے۔
بھوک ایک ایسی ظالم چیز ہے کہ جب اس کی آگ بھڑکتی ہے تو اچھے بھلے تعلیم یافتہ اور باشعور شخص کو بھی وحشی درندہ بنا دیتی ہے۔ اب آپ ہی دیکھ لیجیے کہ یہ تو میں بہت چھوٹی سی مثال دے رہی ہوں مگر آج بڑے بڑے سیاسی نام اقتدار کی کھینچا تانی میں لگے ہیں کیا اُن کو بھی پیسے ہی کی بھوک نے یہ سب کرنے پہ مجبور کر رکھا ہے کیا ان کی بھوک ختم ہوئی؟نہ جانے کب سے یہ سب لوگ جھوٹ،منافقت،اور لاشوں کی سیاست کر رہے ہیں پیسوں کی بھوک میں انہوں نے بھی کوئی انسانی رویہ روا نہیں رکھا۔ مگر عوام کی تو چھوٹی چھوٹی مانگیں ہیں اُنہیں سستا پیاز،آلو،ٹماٹر ہی تو چاہیے ہے۔ قوم کو اس بات سے کوئی سروکارنہیں کہ عدم اعتماد کا کیا نتیجہ نکلتا ہے،کونسا وزیر اعظم ہے کونسا جاتا ہے،اور کون آئے گا مگر یاد رکھیے وزیر اعظم صاحب اگر سچ میں عوام کے ووٹوں پہ صیح جمہوری فیصلہ ہوا تو عوام کبھی ایسے وزیر ا عظم کو دوبارہ قبول نہیں کرے گی کہ جس کے آنے سے اُن کی سکون کی روٹی بھی چھین لی ہو۔
خدارا عوام کے ساتھ مذاق مت کیجیے اُن لوگوں کے لیے آج بھی مہنگائی نہیں جن کے بینک بیلنس ہیں مہنگائی صرف اُن لوگوں کے لیے ہے جن کی آج بھی تنخواہ صرف 20ہزار ہے۔نہ جانے یہ ایک ہی کشتی کے سوار مسافر کب تک یوں ہی عوام کے جذباتوں کے ساتھ کھیل کر کب تک ان لوگوں کو مہنگائی کے سمندر میں دھکا دیتے رہیں گے۔

ٹیگز: