وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے اپوزیشن پر برس پڑے۔
مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن کی جماعتیں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تنقید کر رہی ہیں لیکن کسی بھی تنقید کا اہم پہلو یہ ہوتا ہے کہ آپ متبادل دیتے ہیں.
اپوزیشن کی جماعتیں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تنقید کر رہی ہیں لیکن کسی بھی تنقید کا اہم پہلو یہ ہوتا ہے کہ آپ متبادل دیتے ہیں اب اپوزیشن بتائے کہ بین الاقوامی منڈی میں تیل 60 ڈالر سے 95 ڈالر پر پہنچ جائے تو حکومت قیمت کیسے نہ بڑھائے ؟ کوئ جادو کا چراغ ہے تو بتا دیں
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) February 17, 2022
انہوں نے ٹوئٹ میں کہا کہ اب اپوزیشن بتائے کہ عالمی منڈی میں تیل 60 ڈالر سے 95 ڈالر پر پہنچ جائے تو حکومت قیمت کیسے نہ بڑھائے ؟ کوئی جادو کا چراغ ہے تو بتا دیں۔
خیال رہے کہ دو روز قبل حکومت نے عوام پر ایک بار پھر پیٹرول بم گراتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اوگرا کی تجویز سے بھی زیادہ اضافہ کر دیا۔ حالیہ اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 159 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہوچکی ہے ۔
واضح رہے کہ اوگرا نے پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے فی لٹر اضافے کی تجویز دی تھی تاہم حکومت نے پیٹرول پر فی لیٹر لیوی میں4روپے کا اضافہ کردیا-جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت میں 12 روپے 3 پیسے کا اضافہ ہوا۔
ذرائع کے مطابق پیٹرول پر لیوی اتنی ہی برقرار رہتی تو قیمت میں 4 روپے فی لیٹر کم اضافہ ہوتا مگر پیٹرول پر لیوی بڑھاکر 17 روپے 92 پیسے فی لیٹر کی گئی -اس سےپہلے پیٹرول پر فی لیٹر لیوی 13 روپے 92 پیسے عائد تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے جب تک پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی 30 روپے فی لیٹر تک نہیں پہنچ جاتی اس وقت تک ہر ماہ لیوی میں 4 روپے اضافہ کرنا ہے جس کے باعث پیٹرول کی قیمت میں آئندہ دنوں میں مزید اضافہ بھی متوقع ہے جبکہ عالمی منڈی میں بھی تیل کی قیمتوں میں ردوبدل کے اثرات ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کی وجہ بن سکتی ہیں۔