راولپنڈی / اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی جیل میں زندگی اور انہیں میسر سہولیات کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ جمع کرائی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مندرجات نے سیاسی حلقوں اور عوامی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو جیل کی ایک عام کوٹھڑی کے بجائے ایک وسیع کمپاؤنڈ میں رکھا گیا ہے جو مجموعی طور پر 7 سیلز (کمروں) پر مشتمل ہے۔ اس کمپاؤنڈ میں ان کی نجی زندگی، مطالعہ اور ورزش کے لیے علیحدہ جگہ مختص ہے، جبکہ ایک مخصوص لان بھی ان کے تصرف میں ہے جہاں وہ اخبارات اور کتب کا مطالعہ کرتے ہیں۔رپورٹ میں سب سے زیادہ توجہ بانی پی ٹی آئی کے ڈائٹ پلان نے حاصل کی ہے۔ سپرنٹنڈنٹ جیل کی رپورٹ کے مطابق ان کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے انتہائی متوازن اور مقوی غذا فراہم کی جا رہی ہے۔
صبح کا ناشتہ: کھجور، اخروٹ، شہد، کافی اور جو کا دلیہ۔
سپر فوڈز کا استعمال: خوراک میں لسی، گرم دودھ اور چیا سیڈز (Chia Seeds) بھی شامل ہیں۔
تازہ مشروبات: بانی پی ٹی آئی کو مسمی اور انار کا تازہ جوس باقاعدگی سے فراہم کیا جاتا ہے۔
جیل انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل کے اندر مکمل طور پر محفوظ اور پرسکون ماحول فراہم کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان کی سیکیورٹی پر مامور عملہ اور رہائشی سہولیات جیل مینوئل کے اعلیٰ درجے کے مطابق ہیں تاکہ کسی بھی قسم کے خطرے یا طبی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں منظرِ عام پر آئی ہے جب پی ٹی آئی قیادت مسلسل یہ دعویٰ کر رہی تھی کہ بانی کو جیل میں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد اب سوشل میڈیا اور سیاسی میدان میں "سیاسی قیدی بمقابلہ وی آئی پی قیدی" کی بحث دوبارہ گرم ہو گئی ہے۔