لاہور :لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ وہ سپیکر ہیں، حکومت یا الیکشن کمیشن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ پرامن احتجاج کرتے ہیں، ان پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم جب توڑ پھوڑ اور خون خرابہ ہوتا ہے تو تشویش پیدا ہوتی ہے۔
ایاز صادق نے کہا کہ اعلیٰ عدالتوں نے قومی اسمبلی کو فریق بنایا ہوا تھا اور انہیں پاکستان کی بقا کے تحت ایوان کو چلانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی اسمبلی میں کوئی بھی پاکستان یا افواجِ پاکستان کے خلاف بات کرے گا تو وہ اس کی اجازت نہیں دیں گے۔
سپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ وہ وزیراعظم سے مشاورت کرتے ہیں، تاہم وزیراعظم انہیں کسی چیز سے نہیں روکتے۔ انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی کے منتخب رکن ہیں اور ایوان کے تمام ارکان کو اپنی رائے کے اظہار کا حق ہے، لیکن ملکی مفاد کو مقدم رکھا جائے گا۔
ایاز صادق نے موجودہ خارجہ پالیسی کو ماضی کے مقابلے میں بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ہمسایہ ملک اور دہشت گردی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ہر ملک میں مافیا ہوتے ہیں اور پاکستان میں بھی ہیں، مگر مافیا سے لڑنا حکومت اور عوام دونوں کی ذمہ داری ہے۔