Get Alerts

شدید مون سون بارشوں نے تباہی مچادی، متعدد افراد جاں بحق، سیلابی ایمرجنسی نافذ

شدید مون سون بارشوں نے تباہی مچادی، متعدد افراد جاں بحق، سیلابی ایمرجنسی نافذ

لاہور/چکوال/جہلم: مون سون کی طوفانی بارشوں نے پنجاب کے مختلف علاقوں میں تباہی مچادی، جس کے نتیجے میں جہلم، چکوال، اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔ شدید بارشوں کی وجہ سے متعدد دیہات زیر آب آگئے، جبکہ چھتیں اور دیواریں گرنے سے کم از کم 28 افراد جاں بحق اور 90 افراد زخمی ہوئے۔

چکوال اور جہلم میں سیلابی ایمرجنسی
چکوال میں گزشتہ روز کلاؤڈ برسٹ کے باعث ریکارڈ بارش ہوئی، جس سے متعدد نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ چکوال میں 423 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ کلر کہار اور چو آسیدن شاہ میں بھی شدید بارش ہوئی۔ سیلابی پانی گھروں میں داخل ہونے سے شہریوں کی نقل مکانی جاری ہے۔ چکوال کے نواحی علاقے کھیوال میں مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص اور ایک بچہ جاں بحق ہوگئے۔ ضلعی انتظامیہ نے سیلابی صورتحال کے پیش نظر پاک فوج کی مدد کی درخواست کی ہے۔

جہلم میں ریسکیو آپریشن جاری
جہلم میں بھی سیلابی صورتحال شدید ہے، جہاں ڈھوک بدر اور رجروڑ نکہ خاص میں درجنوں افراد سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے تھے۔ ان افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کیا گیا۔ نالہ پنہاں میں پانی کی سطح بلند ہونے کی وجہ سے سیلابی خطرات بڑھ گئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں نالہ لئی کا خطرہ
اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی شدید بارشوں کے باعث نالہ لئی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی ہے۔ گوالمنڈی اور کٹاریاں کے علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ واسا اور ریسکیو حکام نے ہائی الرٹ جاری کیا ہے اور ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ادارے فعال ہیں۔

وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے امدادی اقدامات
مجموعی طور پر پنجاب بھر میں 33 افراد جاں بحق اور 176 زخمی ہو چکے ہیں۔ حکومت اور ریسکیو ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ پاک فوج کو بھی امداد کے لیے طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت نے متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی سامان فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے اور سیلابی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

ریسکیو حکام کی جانب سے احتیاطی تدابیر
ریسکیو حکام نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے اور ان علاقوں سے نقل مکانی کرنے کی سفارش کی ہے جہاں پانی کی سطح بلند ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ، مختلف اداروں نے شہریوں کو سیلابی پانی سے بچاؤ کے لیے خصوصی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔

خوفناک صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تعاون کی ضرورت
اس قدرتی آفت کے دوران، عوام، ریسکیو ادارے اور حکومت کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مزید جانی نقصان کو روکا جا سکے اور متاثرین کی مدد کی جا سکے۔ شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ سیلاب زدہ علاقوں سے دور رہیں اور حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔

سیلاب متاثرین کے لیے دعاؤں کی اپیل
سیلاب کے باعث لاکھوں افراد کی زندگیوں میں مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں انسانی ہمدردی کے تحت امداد فراہم کی جارہی ہے، لیکن اس قدرتی آفت کے اثرات سے نمٹنے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

ٹیگز: