لاہور: پنجاب میں ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے عمل کو شفاف، مؤثر اور بدعنوانی سے پاک بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ٹریفک پولیس حکام کے مطابق، تمام ڈرائیونگ ٹیسٹنگ سینٹرز پر موجود گاڑیوں میں جدید سنسرز اور کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ امتحان کے دوران امیدوار کی کارکردگی کی خودکار نگرانی ممکن ہو سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہر ٹیسٹنگ سینٹر کو نئی اور مکمل طور پر لیس ٹیسٹنگ گاڑیاں فراہم کی جائیں گی، جن کے ذریعے امیدوار کے ہر عمل کو ریکارڈ کیا جائے گا۔ اس نظام میں بائیو میٹرک حاضری اور گاڑی کے اندر و باہر کیمرہ نگرانی شامل ہوگی، جس سے وارڈنز کی مداخلت مکمل ختم ہو جائے گی۔
نئے نظام کے تحت، اگر کسی امیدوار سے دورانِ ٹیسٹ غلطی ہوتی ہے تو وہ خودکار طور پر سسٹم میں رپورٹ ہو جائے گی، اور فیصلے انسانی مداخلت سے آزاد ہوں گے۔ کسی بھی نئے سینٹر کا آغاز گاڑی کی عدم دستیابی کی صورت میں نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ٹریفک حکام کے مطابق پنجاب میں صرف 17 فیصد ڈرائیورز کے پاس درست لائسنس موجود ہیں، جو ٹریفک حادثات کی بڑی وجہ ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر ٹریفک پولیس نے یہ قدم ڈرائیونگ کے عمل کو محفوظ اور میرٹ پر مبنی بنانے کے لیے اٹھایا ہے، تاکہ نااہل اور سفارشی افراد کی جگہ صرف تربیت یافتہ اور قابل ڈرائیورز کو سڑکوں پر لایا جا سکے۔