واشنگٹن : سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلیٰ انٹیلی جنس مشیر کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ ایران ایٹمی ہتھیار تیار نہیں کر رہا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے بہت قریب پہنچ چکا تھا۔
یہ بیان ٹرمپ نے اُس وقت دیا جب وہ جی-7 اجلاس ادھورا چھوڑ کر ایئر فورس ون میں واشنگٹن واپس جا رہے تھے۔ انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا:
"مجھے اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ اُس نے (انٹیلیجنس چیف) کیا کہا، میرے خیال میں ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے بہت قریب ہے۔"
رپورٹس کے مطابق، رواں برس مارچ 2025 میں ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس، تُلسی گیبّرڈ نے کانگریس کو بتایا تھا کہ ایران نے اپنے جوہری ہتھیاروں کا پروگرام دوبارہ شروع نہیں کیا اور اس حوالے سے کوئی سرگرمی ریکارڈ پر نہیں آئی۔
تاہم ٹرمپ کا حالیہ بیانیہ اس انٹیلی جنس رپورٹ کے برخلاف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو کسی بھی صورت میں ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
"میں نے انہیں کہا تھا کہ معاہدہ کر لو، مگر اب میں زیادہ بات چیت کے موڈ میں نہیں ہوں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ وہ جلد سچویشن روم میں مشیروں کے ساتھ ہنگامی اجلاس کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ امریکا ممکنہ طور پر مشرق وسطیٰ کے تنازع میں زیادہ براہِ راست کردار ادا کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
ادھر ایران میں اسرائیلی حملوں کے بعد صورتحال شدید کشیدہ ہے۔ تہران میں اسرائیل مخالف بینرز آویزاں کر دیے گئے ہیں، اسپتالوں کے عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں، اور شہری علاقوں میں ایندھن کی قلت کے باعث پٹرول پمپوں پر طویل قطاریں دیکھی گئی ہیں۔
یہ بیانات اور اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا نے اپنے جنگی جہاز اور طیارے مشرق وسطیٰ میں دوبارہ تعینات کر دیے ہیں تاکہ خطے میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔