Get Alerts

سال میں دو ماہ اضافی ’گرم ترین‘ دنوں کا خطرہ:عالمی تحقیق میں انکشاف

سال میں دو ماہ اضافی ’گرم ترین‘ دنوں کا خطرہ:عالمی تحقیق میں انکشاف

نیویارک :ایک نئی عالمی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر موجودہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ جاری رہا تو اس صدی کے آخر تک دنیا کو سال میں تقریباً دو ماہ اضافی ’سپر ہاٹ‘ یعنی انتہائی گرم ترین دنوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکی موسمیاتی ادارے کلائمیٹ سینٹرل اور ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن کی تحقیق کے مطابق، اگر 2015 میں پیرس معاہدہ نہ ہوتا تو عالمی درجہ حرارت چار ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا تھا، جس کے باعث ہر سال 114 انتہائی گرم دن ہوتے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 2015 سے اب تک ہر سال 11 اضافی ’سپر ہاٹ‘ دن بڑھ چکے ہیں اور عالمی درجہ حرارت میں تقریباً 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ متوقع ہے، جس کے نتیجے میں سالانہ 57 اضافی انتہائی گرم دن دیکھنے کو ملیں گے۔

’سپر ہاٹ‘ دن وہ ہوتے ہیں جن کا درجہ حرارت 1991 سے 2020 کے دوران ریکارڈ شدہ گرم ترین دنوں سے 90 فیصد زیادہ ہوتا ہے، جو انسانی صحت، معیشت اور ماحول کے لیے خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ متاثر چھوٹے، سمندری علاقوں والے ممالک ہوں گے، جن میں پاناما، ساموا اور سولومن آئی لینڈز شامل ہیں، جہاں سالانہ 149 اضافی گرم ترین دن ہو سکتے ہیں۔ جبکہ امریکہ، چین اور بھارت جیسے بڑے آلودگی پھیلانے والے ممالک کو 23 سے 30 اضافی گرم دنوں کا سامنا ہوگا۔

تحقیق کی شریک مصنفہ ڈاکٹر فریڈریکے اوٹو نے کہا کہ یہ ’ماحولیاتی ناانصافی‘ ہے کہ وہ ممالک جو آلودگی کے ذمہ دار نہیں، زیادہ متاثر ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری نے فوری اقدامات نہ کیے تو گرمی کی شدت سے مرنے والوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ سکتی ہے۔

ٹیگز: