Get Alerts

افغانستان سے دہشت گردی کا معاملہ، پاکستان کا سلامتی کونسل میں واضح مؤقف

افغانستان سے دہشت گردی کا معاملہ، پاکستان کا سلامتی کونسل میں واضح مؤقف

واشنگٹن:پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں واضح کیا ہے کہ افغانستان سے اٹھنے والے دہشت گردانہ خطرات کے خلاف ضرورت پڑنے پر اپنے دفاع میں کارروائی کی جائے گی، تاہم ہر اقدام بین الاقوامی قانون کے مطابق ہوگا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی یلغار کے سامنے خاموش نہیں بیٹھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف پاکستان اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔

عاصم افتخار احمد کے مطابق گزشتہ تین برس کے دوران افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں 4,700 سے زائد پاکستانی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کابل افغان سرزمین پر سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اور قابلِ تصدیق اقدامات کرنے میں ناکام رہا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان، کالعدم بلوچ لبریشن آرمی اور اس کا مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ سمیت متعدد دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض بیرونی عناصر بھی افغانستان میں موجود اپنے حمایت یافتہ گروہوں کو پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، جس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے استحکام کے لیے رابطوں، انسانی امداد اور علاقائی تعاون کی پالیسی جاری رکھی ہے۔ ان کے مطابق رپورٹنگ کی مدت کے دوران پاکستان کے راستے کم از کم 687 انسانی امدادی سامان سے لدے ٹرک افغانستان میں داخل ہوئے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی، خواتین اور لڑکیوں پر پابندیاں، معاشی مشکلات اور بڑے پیمانے پر لوگوں کی واپسی ملک کے طویل مدتی استحکام کے لیے چیلنجز ہیں۔

پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ دہشت گردی افغانستان کے مسائل کا بنیادی مرکز ہے اور افغان طالبان دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے افغانستان میں موجود غیر قانونی اسلحے اور بین الاقوامی افواج کی جانب سے چھوڑے گئے ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے خطرے سے بھی سلامتی کونسل کو آگاہ کیا۔

ٹیگز: