اسلام آباد : صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ملک بھر میں مون سون شجرکاری مہم 2025 کے آغاز پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید خطرات لاحق ہیں اور ایسے میں درخت لگانا ایک قومی ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے شجرکاری کو پاکستان کے محفوظ مستقبل کی ضمانت قرار دیا۔
صدر زرداری کے مطابق رواں سال اگست سے اکتوبر تک ملک بھر میں 4 کروڑ 10 لاکھ سے زائد پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ درخت صرف پودے نہیں، بلکہ زندگی کی علامت ہیں اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک مضبوط قدرتی دفاعی نظام ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور بار بار آنے والے سیلاب لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ملک کی پائیدار ترقی کا انحصار قدرتی ماحول اور جنگلات کے تحفظ پر ہے۔
صدرِ مملکت نے عوام سے اپیل کی کہ وہ شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور ملک کو سرسبز و شاداب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہر لگایا گیا درخت آئندہ نسلوں کے لیے زندگی کا پیغام اور قدرتی آفات کے خلاف ڈھال ہے۔"
انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب نے ملک کے مختلف حصوں میں تباہی مچائی ہے، اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ ہم فیصلہ کن اقدامات کریں اور گرین پاکستان پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کریں۔
صدر نے نوجوانوں کو اس مہم کی قیادت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ تبدیلی کے سفیر بنیں، جبکہ کسانوں کو مشورہ دیا کہ وہ درخت لگا کر اپنی زمین اور فصلوں کو محفوظ بنائیں۔ ساتھ ہی انہوں نے میڈیا، سول سوسائٹی، علما اور کمیونٹی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ عوام کو اس قومی مہم کا حصہ بنانے کے لیے متحرک کریں۔