چکوال: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے بات چیت محض بیان بازی تک محدود ہے اور عملی طور پر کسی قسم کا رابطہ یا مذاکرات نہیں ہوئے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے صرف بیانات دیے جا رہے ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ انہوں نے موجودہ حکومت کو جعلی مینڈیٹ کے باوجود مسلم لیگ (ن) کی حکومت قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی صرف ایک سہارا بنی ہوئی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے نئے صوبوں کے قیام پر بھی تنقید کی اور کہا کہ انتظامی اور مالی نظام واضح نہیں کیا گیا، جبکہ فاٹا کے انضمام کی مثال دیتے ہوئے خبردار کیا کہ طاقت کے ذریعے مسلط کیے گئے فیصلوں کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 26ویں ترمیم مفاہمت کے ساتھ منظور ہوئی، جبکہ 27 ویں ترمیم زبردستی دو تہائی اکثریت کے ذریعے پاس کروائی گئی، جو آئین کے منافی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا کہ 22 دسمبر کو کراچی میں غیراسلامی قوانین کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء بھی شریک ہوں گے۔
افغان پالیسی اور دہشت گردی کے حوالے سے بھی انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پالیسیز 78 سال میں کبھی درست سمت میں نہیں رہیں۔