سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس:متاثرین 15 سال سے انصاف کے منتظر، بھارتی ناظم الامور کی وزارت خارجہ طلبی

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس:متاثرین 15 سال سے انصاف کے منتظر، بھارتی ناظم الامور کی وزارت خارجہ طلبی

اسلام آباد:  سمجھوتہ ایکسپریس پر دہشت گردانہ حملے کو15 سال گزر جانے کے بعد بھی متاثرین انصاف کے منتظر ہیں۔ اس معاملے پر بھارتی ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا۔پاکستان نے متاثرین کو  انصاف فراہم نہ کرنے پر  بھارت سے احتجاج  کرتے ہوئے بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاجی مراسلہ انکے حوالے کیا ۔

ذرائع کے مطابق ناظم الامور  کو پندرہ سال گزرنے کے باوجود انصاف کے منتظر پاکستانی شہریوں کے اہل خانہ کی حالت زار پر ہندوستانی حکومت کی بے حسی پر پاکستان کی شدید مایوسی سے آگاہ کیا گیا۔

 بھارتی ناظم الامور سے کہا گیا کہ وہ  پاکستان کے سخت جذبات اور برہمی سے بھارتی  حکومت کو آگاہ کریں، بھارتی حکومت کو بتایا جائے کہ پاکستان  اس گھناؤنے دہشت گردانہ حملے کے تمام ملزمان  کی ڈھٹائی سے بریت اور معافی کی مذمت کرتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے   آر ایس ایس کے ایک کارکن سوامی اسیمانند، جس نے سرعام اس کے ماسٹر مائنڈ ہونے کا اعتراف کیا تھا اس کی رہائی کی مذمت کی گئی ۔ مزید کہا گیا کہ اس گھناؤنے  حملے میں ملوث اہلکاروں کی ڈھٹائی سے استثنیٰ اور مکمل ریاستی تحفظ کی بھی پاکستان شدید مذمت کرتا ہے۔

بھارتی ناظم الامور سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ ہندوستانی حکومت کو پاکستان کے منصفانہ ٹرائل کے مطالبے اور سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گردانہ حملے کے مرتکب اور اس کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کریں۔ بے گناہ پاکستانی شہریوں کے اہل خانہ، جو ہندوتوا سے متاثر انتہا پسندوں کے ہاتھوں بے رحمی سے مارے گئے، توجہ کے مستحق ہیں۔

یاد رہے کہ 2007 میں بھارت کے صوبے ہریانہ میں  ہندو انتہاپسندوں نے 'سمجھوتہ ایکسپریس' پر حملہ کردیا، دو بوگیوں کو آگ لگادی ۔ اس واقعے میں43 پاکستانیوں کی شہادت ہوئی  جبکہ مجموعی طور پر واقعے میں 68 افراد جان سے گئے  تاہم بھارتی عدالتوں نے  تمام مجرموں کو ایک ایک کرکے رہا کردیا۔

مصنف کے بارے میں