نیویارک : پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے فورم پر فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت اور جبری بے دخلی کے خلاف اپنا "دو ٹوک" فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فلسطینی عوام کو ان کے گھروں سے نکالنے کا عمل کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے نیویارک میں میڈیا اور عالمی نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان سمیت اقوامِ متحدہ کے 85 رکن ممالک نے مغربی کنارے (West Bank) میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے ان بستیوں کو عالمی قوانین اور یو این چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
پاکستان نے اسرائیل کے اس اقدام کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس کے تحت وہ مغربی کنارے کو اپنی ملکیت قرار دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ عاصم افتخار نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے یہ حالیہ اقدامات خطے میں جاری امن کی کوششوں کے لیے "زہرِ قاتل" ثابت ہو رہے ہیں اور کسی بھی ممکنہ امن معاہدے کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔پاکستان نے اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ کیا کہ مسئلہ فلسطین کا واحد حل "دو ریاستی فارمولا" ہے، جس کے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں امن کا خواب ادھورا ہے۔
پاکستانی مندوب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ اپنے تمام غیر قانونی اقدامات فوری طور پر واپس لے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کے لیے ہر سطح پر اپنی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔