Get Alerts

ریڈ لائن گرین کیوں ہوجاتی ہے ؟

ریڈ لائن گرین کیوں ہوجاتی ہے ؟

تحریر: طارق وسیم

سابق وزیر اعظم  اور بانی پی ٹی آئی   کی ایک آنکھ کی بینائی  کا معاملہ کافی گرم ہے  ، بانی کا علاج جاری ہے  اور فیملی کو لمحہ لمحہ اپ ڈیٹ بھی رکھا  جا  رہا ہے ۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا  ہے   کہ ان  کا  مکمل خیال رکھا جا رہا ہے، ان کی آنکھ کی تکلیف کو بھی فوری ٹریٹ کیا گیا تھا ،کچھ تاخیر اگر ہوئی تو اس کی ذمہ دار علیمہ خان ہیں،بیماری کا پتہ چلتے ہی بانی کی فیملی سے مشاورت کی گئی ۔
واقفان حال کا    کہنا ہے کہ  حکومت نے کئی ڈاکٹروں پر مشتمل ایک آزاد میڈیکل بورڈ تشکیل دینے پر آمادگی ظاہر کی، پی ٹی آئی کو ایک آزاد معالج نامزد کرنے کی اجازت دی گئی۔ پی ٹی آئی نے  ڈاکٹر ندیم قریشی کا نام پیش کیا ، حکومت نے پی ٹی آئی کو یہ اختیار بھی دیا کہ وہ نگرانی کیلئے فیملی کے ایک نمائندے کو نامزد کرے۔ذرائع کے مطابق  عمران خان کے بھانجے قاسم زمان کو بطور خاندانی نمائندہ نامزد کیا گیا،  لیکن بعد میں علیمہ خان نے ان کا نام  واپس لے لیا اور کہا  کہ  ڈاکٹر نوشیروان برکی فیملی  نمائندہ ہوں گے۔دوسری جانب علیمہ خان نے سوشل میڈیا پر مختلف نوعیت کی پوسٹس شیئر کرنا بھی شروع کر رکھا تھا ۔حکومت کا اصرار تھا کہ خاندان کا نمائندہ ڈاکٹر نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ جانبداری کرے گا ،اس لیے کوئی غیر ڈاکٹر  نمائندہ مقرر کیا جائے،  علیمہ خان  کی جانب سے  غیر ضروری لیت و لعل کی وجہ سے  بانی   کا علاج تین دن تاخیر کا شکار ہوا ۔
   پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور علامہ راجہ ناصر عباس کو ڈاکٹروں سے ملاقات کیلئے لے  جایا گیا اور  نتائج سے آگاہ کیا گیا۔
 معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں کی پی ٹی آئی  سے وابستہ  ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر خرم مرزا سے ٹیلیفونک مشاورت بھی کرائی گئی ، بورڈ نے آنکھوں کے کسی سنگین عارضے کی نشاندہی نہیں کی، ایک آنکھ کی بینائی 6/6 اور دوسری کی 6/9 ریکارڈ کی گئی اور ہلکے نمبر کے چشمے کی سفارش کی گئی ۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی  کی پریس کانفرنس کے فوری بعدعلیمہ خان کا کہنا تھا کہ     انہیں کسی سرکاری یا کسی ادارے کے ڈاکٹر پر اعتبار نہیں،  ہم نے جن ڈاکٹرز کے نام دیے ان سے علاج نہیں کرایا جارہا۔  کئی دنوں سے سن رہے تھے ہسپتال منتقل کیا جائے گا لیکن ایسا نہیں کیا گیا ۔وزیرا عظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف اس معاملے پر سیاست  کر رہی ہے ،دوسری جانب عظمیٰ خان  میڈیا کو انٹرویوز دیتے ہوئے  سنگین نتائج کا کہ رہی ہیں،  سوشل میڈیا پر موجود بھارتی اکاؤنٹس نے ایک  خط بھی  شیئر کیا ہے جسے بانی  کے ساتھ کرکٹ کھیلنے والے 14 کپتانوں سے منسوب کیا گیا ہے جو حکومت پاکستان سے بانی کے اچھے علاج معالجے  کی درخواست     کر رہے ہیں ۔
سیاستدان جب جیل میں ہوتے ہیں تو ان کی حمایت دنیا بھر سے آتی ہے ۔محترمہ بے نظیر بھٹو کی حمایت دنیا بھر کی پارلیمانوں میں کی جاتی رہی ہے ۔ میاں  نواز شریف کی حمایت کے لیے بی بی سی ، امریکی اور برطانوی پارلیمان میں آواز اٹھتی رہی ہے۔بانی پی ٹی آئی  کی سابق اہلیہ جمائمہ خان اور   دونوں  بیٹوں  نےایک دو بار ان  سے  اظہار ہمدردی ضرور  کیا ہے ۔سابق  وزیر اعظم کی رہائی ہو یا سیاسی معاملات ،تحریک انصاف  میں سب کچھ سوشل میڈیا سے چلایا جاتا ہے، جہاں زیادہ تر ایسے اکاؤنٹس    جو  اپنی شناخت چھپا کر رکھتے ہیں  بانی کے   لیے آواز اٹھاتے ہیں ، جب کبھی  معاملات بہتری کی جانب جانے لگتے ہیں ،تو کپتان ہماری ریڈ لائن ہے۔ انقلاب ، اسلام آباد پر یلغار  جیسے نعرے شدت سے لگانے شروع کر دیے  جاتے ہیں ، اچانک  کچھ نامعلوم اکاؤنٹس  متحرک ہو جاتے ہیں،رپورٹ کے مطابق بھارتی  سوشل میڈیا  اس حوالے سےمتنازعہ پوسٹس کرنے لگتا ہے، اور یوں ریڈ لائن   گرین ہو جاتی ہے  اور زندگی پرانی ڈگر پر رواں دواں ہو جاتی ہے۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں  اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔

ٹیگز: