اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بجٹ سے قبل مختلف بے بنیاد افواہیں پھیلائی گئیں، جن میں 18ویں آئینی ترمیم کے خاتمے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ختم کیے جانے جیسے دعوے شامل تھے۔
انہوں نے واضح کیا کہ صوبوں کا قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) میں حصہ محفوظ ہے اور صوبوں سے مزید مالی بوجھ لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ صوبائی مالی وسائل کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔
بلاول بھٹو نے خطے میں قیام امن کے اقدامات پر صدر، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو مبارکباد دی اور کہا کہ پاکستان کو افغانستان اور بھارت کی سرحدوں پر اب بھی سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے “آپریشن سندور ٹو” جیسے بیانات اور کشیدگی کو بڑھانے کی کوششیں تشویشناک ہیں، جبکہ کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی کوششیں قابلِ افسوس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کو مقبوضہ کشمیر کی طرز پر نہیں دیکھنا چاہتے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کے مطابق بلوچستان کے امن کو خراب کرنے میں بیرونی عناصر خصوصاً بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں، جبکہ پاکستان کے خلاف اسرائیل اور بھارت کے مبینہ گٹھ جوڑ پر بھی تشویش پائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے ایک مبینہ ’’را‘‘ ایجنٹ کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے خلاف سرگرمیاں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر کے حالات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کو اس حد تک نہیں جانا چاہیے کہ قومی مفاد متاثر ہو، اور تمام مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو حقوق دینے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بلاول بھٹو نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو قومی سلامتی اور سماجی تحفظ کا اہم منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ غربت کے خاتمے کے لیے اسے کم کرنے کے بجائے مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی اور صوبائی مالی حصے سے متعلق معاملات میں شفافیت ضروری ہے اور صوبے پہلے ہی مالی بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔